جونپور : اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بدعنوانوں کی جائیداد کو ضبط کر کے عوامی استعمال میں لایا جائے تاکہ اسے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے ۔ تقریباً 250 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد جمعہ کو یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یوگی نے کہا کہ بدعنوانی کی کمر توڑنے کے لیے حکومت کی ‘زیرو ٹالرنس پالیسی’ کی وجہ سے ریاست میں کوئی بدعنوان نہیں بچ سکے گا۔ چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنے والوں نے جو بھی جائیداد اکٹھی کی ہے اسے عوام کے استعمال کے لیے اٹیچ کیا جائے گا اور غریبوں کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ یوگی نے یہاں ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرنے سے پہلے 258 کروڑ روپے کی لاگت والے 116 پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا۔ اس کے بعد انہوں نے زیر تعمیر میڈیکل کالج کے ساتھ ساتھ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا بھی معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے حکومت کی مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں میں اسناد تقسیم کیں۔
یہاں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یوگی نے کہا کہ اتر پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں فسادیوں کو جیل بھیجا گیا ہے ۔ انہیں یہ احساس دلایا گیا ہے کہ انہیں فساد کا نتیجہ فوراً ملے گا۔ حکومت نے اس کے لیے قانون بھی بنایا ہے ۔یوگی نے دعویٰ کیا کہ پچھلے پانچ سالوں سے ان کی حکومت جرائم اور مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر کام کر رہی ہے ۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار میں یہ بھی قبول کیا گیا کہ اتر پردیش اب فسادات سے پاک ریاست بن گیا ہے ۔ یوپی کے اس ماڈل کو ملک کی دیگر ریاستوں نے بھی قبول کیا گیا ہے ۔