بدنام زمانہ مجرم وکاس دوبے اُجین میں ڈرامائی انداز میں گرفتار

,

   

اْجین۔ اترپردیش کے کانپور میں 8 پولیس ملازمین کے قتل میں ملوث بدنام زمانہ گینگسٹر وِکاس دوبے کو پولیس نے آج مدھیہ پردیش کے اُجین میں اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ مہانکال مندر میں پوجا کیلئے پہنچا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ 3 ملزمین کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ مدھیہ پردیش سے سڑک کے راستے اترپردیش لایا گیا۔ وہ گزشتہ جمعرات سے اس وقت سے فرار تھا جب اس کے غنڈوں نے گھات لگاکر پولیس پارٹی پر حملہ کرکے 8 پولیس ملازمین کو شہید کردیا تھا۔ کل ایک انکاؤنٹر میں اس کے قریبی ساتھی امر دوبے کو پولیس نے ہلاک کردیا تھا۔ فریدآباد کی ایک ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کو ماسک لگاکر جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو مشتبہ طور پر وکاس دوبے تھا، تاہم پولیس کے وہاں پہنچنے تک وہ فرار ہوگیا تھا۔ جمعرات کو پولیس کے ساتھ انکاؤنٹر میں اس کے مزید دو ساتھیوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان میں ایک کی رنبیر کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے جس کو ایٹاوہ میں ہلاک کیا گیا۔ اس پر 50,000 روپئے کا انعام تھا۔ پولیس نے آج سخت حفاظتی انتظامات کے دوران دن میں وکاس دوبے سے 8 گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شام کے وقت اسے جج کے روبرو پیش کیا گیا۔وکاس دوبے کی شناخت مندر کی سکیورٹی پر معمور پرائیویٹ کمپنی کے ملازمین نے کی اور پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ وکاس کی گرفتاری کے بعد پولیس نے دو دیگر ملزموں بٹّو اور سریش کو بھی گرفتار کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک لگژری کار بھی ضبط کی ہے، جس سے وکاس دوبے اجین پہنچا تھا۔ اس نے مندر کے احاطے میں داخل ہونے کے لئے غلط نام سے پاس بنوایا تھا۔ اسے مندر کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد گرفت میں لے لیا گیا۔ وکاس سے ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد کچھ مقامی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جنہوں نے وکاس کی مدد کی تھی۔اس دوران وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے وکاس دوبے کی گرفتاری کو کامیابی قرار دیتے ہوئے، اجین پولیس کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران اہم اپوزیشن نے اس معاملے میں سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ وکاس دوبے نے خود سپردگی کی ہے اور اس میں ایک لیڈر کا کردار مشکوک نظر آتا ہے۔ کانگریس نے اس پورے معاملے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران وکاس دوبے کی بیوی اور بیٹے کو لکھنؤ میں حراست میں لے لیا۔

شہید پولیس ملازم کے ارکان خاندان نے وِکاس دوبے کی اُجین میں گرفتاری پر اُٹھائے سوال
اوریا۔اترپردیش کے ضلع کانپور کے چوبے پور علاقے میں 8 پولیس ملازمین کے بہیمانہ قتل کے کلیدی ملزم وکاس دوبے کی گرفتاری پر اس واردات میں شہید ہوے والے پولیس ملازم کے کچھ ارکان خاندان نے سوالات اٹھا ئے ہیں۔وکاس دوبے کو آج اجین میں گرفتار کیا گیا۔ اس ضمن میں شہید راہول کے والد سبکدوش پولیس سب انسپکٹر اوم کمار نے کہا کہ ان کو تسکین تبھی ملے گی جب جس نے جو کیا ہے اسے وہی سزا دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کا دعوی تھا کہ وکاس کی گرفتار میں 100ٹیمیں اور 10ہزا جوان لگائے گئے تھے ۔سبھی سرحدیں سیل کردی گئی تھی پھر وکاس کیسے پہلے فریدآباد اس کے بعد اجین پہنچ گیا جہاں اس کا سسرال ہے ۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ مندر میں پہلے پاس بنواتا ہے پھر خود اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ وکاس دوبے ہے تب پولیس اسے گرفتار کرتی ہے ۔وہیں شہید رہل کی بہن نندی نے کہا کہ کل تو کہا جارہا تھا کہ وکاس فریدآباد میں ہے ۔ اور آج اسے اجین سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کہیں پولیس اس کی مدد تو نہیں کررہی ہے ؟