برسراقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی ہی وقف جائیدادوں کو فروخت کرنے کے مرتکب

   

تلنگانہ حکومت کے بلند بانگ دعوے، وقف بورڈ مداخلت کرنے سے قاصر

حیدرآباد۔16۔جون(سیاست نیوز) وقف جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے وعدے کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والی حکومت کے منتخبہ ارکان اسمبلی ہی موقوفہ جائیدادوں کی فروخت کے مرتکب بن رہے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی راست نگرانی میں موقوفہ اراضیات کی فروخت کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ کوہ مولیٰ علی ؓ کے تحت موقوفہ اراضی پر جاری پلاٹٹنگ کے سلسلہ میں متعدد شکایات کی وصولی کے باوجود تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اسے رکوانے سے قاصر ہے کیونکہ پلاٹننگ کے پس پردہ بھارت راشٹر سمیتی کے بااثر رکن اسمبلی ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی مہیشورم میں انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی جو کہ عاشور خانہ علی سعدؒ اور سیف نواز جنگ کے تحت ہے اسے فروخت کر چکے ہیں اور اب ایک اور رکن اسمبلی کی نگرانی میں کوہ مولیٰ علی ؓ کے تحت موقوفہ اراضی کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق کوہ مولیٰ علی کے تحت موقوفہ اراضی کی فروخت کے متعلق وقف بورڈ میں کی گئی شکایت کے بعد وقف بورڈ نے فوری حرکت میں آتے ہوئے محکمہ پولیس میں اس کی شکایت درج کروانے کی کوشش کی جس پر وقف بورڈ کے عہدیداروں کو محکمہ پولیس کے عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ موقوفہ اراضی پر قبضہ کا معاملہ دیوانی نوعیت کا ہے اس لئے وہ اس میں مداخلت سے قاصر ہیں جبکہ محکمہ مال کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ دستاویزات کی تنقیح کے بعد ہی معاملہ میں مداخلت کر سکتے ہیں حالانکہ اس موقوفہ جائیداد پر پلاٹننگ کا سلسلہ جاری ہے اور اسے رکوانے والوں پر رکن اسمبلی دباؤ ڈالتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ریاستی حکومت نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کمشنریٹ اور وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات کا حامل بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب برسراقتدار جماعت کے ہی ارکان اسمبلی اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان موقوفہ جائیدادوں کی فروخت میں ملوث ہو رہے ہیں۔ اوقافی جائیدادوں کی تباہی سیاسی سرپرستی میں ہوتی ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن جب برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے منتخبہ عوامی نمائندے ہی جائیدادوں کی تباہی میں ملوث ہوں تو ان جائیدادوں کو کس طرح سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے! مولیٰ علی علاقہ کے مکینوں نے بتایا کہ جو لوگ اس موقوفہ جائیداد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ان پر فوجداری مقدمات کے اندراج کی دھمکی دی جا رہی ہے اور سرکاری محکمہ جات رکن اسمبلی کے دباؤ کے سبب لینڈ گرابرس کو موقوفہ جائیداد کی فروخت سے باز رکھنے سے قاصر ہیں۔