برسر اقتدار حکومت کے دور کی شکایتوں کا وقت نہیں ہے

   

جماعت فیصلہ کرچکی ہے کہ بی آر ایس کو کامیاب بنایا جائے،قیادت کے فیصلہ سے نمائندوں میں ناراضگی و مایوسی

حیدرآباد۔29۔اکٹوبر(سیاست نیوز) منتخبہ عوامی نمائندوں کے متعلق شکایات اور ناراضگی ظاہر کرنے کا یہی وقت ہے اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ’’یہ وقت ناراضگی ظاہر کرنے یا شکایات کرنے کا نہیں ہے‘‘ تو وہ درحقیقت ملت کے مفادات نہیں بلکہ اپنے مفادات کے متعلق فکر مند ہے۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے نظریہ اور ان کی کانگریس سے بڑھ رہی قربت کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ فی الحال گذشتہ 9برسوں کے دوران ہونے والی غلطیوں کی شکایات کرنے کا وقت نہیں ہے اور اب ’جماعت ‘ فیصلہ کرچکی ہے کہ بی آر ایس کی تائید کی جائے اور بی آر ایس کے امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق اضلاع کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے اراکین بلدیہ کے علاوہ دیگر قائدین کو یہ کہا جا رہاہے کہ وہ اپنے منتخبہ ارکان اسمبلی کی شکایات نہ کریں اور گذشتہ برسوں کے دوران مسلم علاقوں اور بستیوں کے علاوہ مسلم مسائل کے حل کے سلسلہ میں اقدامات نہ کئے جانے کے معاملہ میں مکمل خاموشی اختیار کرتے ہوئے بی آر ایس کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے لیکن قیادت کے اس فیصلہ سے نمائندوں میں ناراضگی اور مایوسی پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ وہ مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لئے ’قیادت کی ہدایت‘ کے مطابق برسراقتدار جماعت سے معاملت کرلی جائے گی لیکن اس کے باوجود رائے دہی کے معاملہ میں عوام کے درمیان پہنچ کرذہن سازی سے گریز کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ ظہیر آباد‘ نظام آباد کے علاوہ کریم نگر سے تعلق رکھنے والے قائدین کو دی گئی قیادت کی ہدایت پر خود ’جماعت‘ کے نمائندوں کو حیرت و استعجاب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ زمینی حقائق کے متعلق آگہی کے باوجود ناکام کوشش کی ہدایات دی جا رہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ مسلم رائے دہندوں کو بی آر ایس کو ایک اور موقع دینے کے لئے آمادہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق نظام آباد کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران نظام آباد کے ذمہ داروں نے رکن اسمبلی کے خلاف مسلمانوں کی ناراضگی سے واقف کروانے کے علاوہ ان کی مسلم علاقوں سے بے اعتنائی اور مسلم بستیوں کو نظرانداز کرنے کی شکایات کی لیکن اس کے باوجود ان کی حمایت کرنے کی ہدایت دی گئی اس کے علاوہ نظام آباد کے نمائندوں نے اقلیتی شادی خانہ ‘ قبرستان کی جگہ کی فراہمی کے علاوہ دیگر مقاصد کے تحت اراضی حوالہ کرنے کے فیصلہ میں رکن اسمبلی کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹ کے متعلق واقف کروایا جس پر یہ کہتے ہوئے نظرانداز کردیا گیا کہ یہ وقت شکایات کا نہیں ہے بلکہ جماعت نے فیصلہ کرلیا ہے اور دوبارہ اس رکن اسمبلی کو ہی کامیاب بنانا ہے اس کے لئے رکن اسمبلی کے علاوہ ضلع انچارج کی جانب سے نمائندوں کو خوش کرنے کے لئے جو کچھ کرنا کردیا جائے گا۔