برطانیہ میں فلسطینی مشن کو سفارت خانے کا درجہ

,

   

فلسطینی پرچم عمارت پر لہرا دیا گیا‘سرکاری نقشہ میں فلسطین آزاد ریاست
لندن۔22؍ستمبر ( ایجنسیز)فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے بعد برطانیہ میں فلسطینی مشن کو اب سفارت خانے کا درجہ حاصل ہو گیا ہے اور عمارت کے باہر فلسطینی پرچم بھی لہرا دیا گیا۔ یہ اقدام فلسطینی عوام کے حقوق اور آزادی کی حمایت میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس موقع پر فلسطین کے برطانیہ میں سفیر حسام زملوط نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرچم فلسطینی قوم کی نمائندگی کرتا ہے، سیاہ رنگ سوگ، سفید رنگ ہماری امید، سبز رنگ ہماری زمین اور سرخ رنگ عوام کی قربانیوں کی علامت ہے۔حسام زملوط کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا تاریخی ناانصافیوں کو درست کرنے اور آزادی، وقار اور بنیادی انسانی حقوق پر مبنی مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔حسام زملوط نے زور دیا کہ فلسطینی ریاست کو ایسے وقت میں تسلیم کیا گیا ہے جب فلسطینی عوام ناقابلِ تصور درد اور اذیت سے گزر رہے ہیں۔ غزہ میں ایک نسل کشی جاری ہے جسے عالمی برادری نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور جسے بے خوفی کے ساتھ جاری رہنے دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں عوام پر بھوک اور بمباری مسلط کی گئی ہے۔ لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیںاور مغربی کنارے میں نسلی تطہیر، ریاستی دہشت گردی، زمینوں کی چوری اور جبر کا روزانہ سامنا کر رہے ہیں۔سفیر نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کی انسانیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کی زندگیاں بے وقعت سمجھی جا رہی ہیں اور بنیادی حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فلسطینی پرچم اس عہد کے ساتھ بلند کیا جا رہا ہے کہ فلسطین ہمیشہ رہے گا، فلسطین سر بلند ہوگا اور فلسطین آزاد ہوگا۔گزشتہ روز برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جو فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے ایک اہم عالمی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد برطانیہ نے پہلی بار فلسطین کو اپنے سرکاری نقشوں میں شامل کرلیا ہے۔برطانوی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر نقشوں کو اپ ڈیٹ کردیا ہے جن میں پہلے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا ذکر تھا، اب اس کی جگہ فلسطین کا نام درج کیا گیا ہے۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق فلسطین کو خود مختار ریاست تسلیم کرنے کے بعد وزارتِ خارجہ کی متعدد ویب سائٹ صفحات میں فلسطینی مقبوضہ علاقے کی جگہ فلسطین کا نام درج کر دیا گیا۔ ان تبدیلیوں میں وہ صفحات بھی شامل ہیں جن میں اسرائیل اور فلسطین سے متعلق سفری ہدایات، وزارتِ خارجہ کے غیرملکی دفاتر کی فہرست اور خطے کا نقشہ شامل ہے۔واضح رہے کہ اتوار کے روز وزیراعظم اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ نے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی ہولناکی کے پیش نظر ہم امن کے امکان اور دو ریاستی حل کو برقرار رکھنے کیلئے کام کر رہے ہیں