سرکردہ ممالک کے سربراہان سے ٹیلی فون پر بات چیت ، ناٹو سربراہی اجلاس میں بائیڈن سے ملاقات پر اتفاق
لندن : برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کیرا سٹارمر نے اپنے دفتر میں پہلے دن عالمی رہنماؤں کے ساتھ فون پر رابطہ کیا۔اس دوران رہنماؤں نے اسٹارمر کو ان کے نئے عہدے پر مبارکباد دی۔امریکی صدر جو بائیڈن اورا سٹارمر کے درمیان بات چیت میں امریکہ-برطانیہ تعلقات، جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور یوکرین کی حمایت جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں سربراہان نے آئندہ ہفتے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں ملاقات پر اتفاق کیا۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ گفتگو میں سٹارمر نے اس بات کا عندیہ دیا کہ برطانیہ میں حکومت کی تبدیلی یوکرین کی حمایت کو کمزور نہیں کرے گی۔آئرلینڈ کے وزیر اعظم سائمن ہیرس سے رابطے میں اسٹارمر نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک میں حکومت کی تبدیلی سے برطانوی آئرش تعلقات میں ایک نئے دور کی راہ ہموار ہوگی۔اسٹارمر، جنہوں نے اپنی اطالوی ہم منصب جارجیا میلونی سے بھی فون پر بات کی، اٹلی اور برطانیہ کے مشترکہ شعبوں میں خاص طور پر غیر قانونی نقل مکانی کے معاملات میں تعاون جاری رکھنے کے ارادیپر زور دیا۔یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وون در لین کے ساتھ سٹارمر کی ٹیلی فونک بات چیت میں، یورپی یونین اور برطانیہ تعاون کے فروغ سمیت موسمیاتی تبدیلیوں، علاقائی سلامتی اور یوکرین کے لیے حمایت جیسے امور زیر غور آئے۔اسٹارمر اور ان کے کینیڈین ہم منصب جسٹن ٹروڈو نے واشنگٹن میں نیٹو سربراہی اجلاس میں ملاقات کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔انگلستان میں 4 جولائی کوئے عام انتخابات میں 650 نشستوں والے دارالعلوم میں 412 نشستوں میں کامیاب ہونے والی لیبر پارٹی کے رہنماا سٹارمر نے کنگ چارلس سوئم کی طرف سے اختیارات سونپے جانے کے بعد نئی حکومت تشکیل دی تھی۔