بی آر ایس کی 700 سے زائد وارڈس پر کامیابی ، عوامی ناراضگی کا واضح پیغام
حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی و سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر اور ریاستی وزراء کے بشمول پوری سرکاری مشنری ایک ساتھ میدان میں اترنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں بی آر ایس امیدواروں کی جیت کو روک نہیں سکی ۔ نتائج کو کانگریس کی غیر جمہوری حکمرانی کے منہ پر طمانچہ قرار دیا ۔ حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ طاقت کے غلط استعمال ، پیسے کی سیاست اور دھمکیوں کے باوجود بی آر ایس کے امیدوار کامیاب ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام میں کانگریس حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 700 سے زائد وارڈس پر بی آر ایس کی کامیابی کوئی اتفاق نہیں بلکہ عوامی رجحان کا واضح اظہار ہے ۔ ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ کانگریس کے ڈھائی سالہ دور حکومت میں ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے ۔ چاہے دیہی علاقے ہو یا شہری علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ انتخابی وعدے پورے نہیں ہوئے اور فلاحی اسکیمات تعطل کا شکار ہیں ۔ گرام پنچایت انتخابات کے بعد بلدیاتی نتائج نے بھی واضح کردیا ہے کہ کانگریس کا متبادل صرف بی آر ایس ہے اور مستقبل میں بی آر ایس کی اقتدار پر واپسی کا اشارہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھ ضمانتوں اور متعدد وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی حکومت کو مہنگی پڑے گی ۔ بی آر ایس عوامی سطح پر کانگریس حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے رہے گی اور عوام کے آشیرواد سے تلنگانہ میں گلابی پرچم لہرانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے گی ۔ ہریش راؤ نے پارٹی کے تمام قائدین ، انچارجس ، کارکنوں اور سوشیل میڈیا ٹیم کو مبارکباد پیش کی ۔ جنہوں نے حکمران جماعت کے دباؤ کے باوجود کارپوریٹر اور کونسلر کے طور پر کامیابی حاصل کر کے پارٹی کی طاقت کا مظاہرہ کیا ۔۔ 2