نظام آبادمیئرکا عہدہ حاصل کرنے کیلئے کانگریس اور بی جے پی میںزبردست مقابلہ کی فضاء
نظام آباد: 31؍ جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ بودھن، آرمور اور بھیمگل بلدیات میں کانگریس، بی جے پی اور بی آر ایس پارٹیوں میں امیدواروں کی بڑی تعداد سامنے آنے کے باعث تمام سیاسی جماعتیں امیدواروں کے انتخاب میں انتہائی الجھن میں ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں احتیاط سے کام لے رہی ہیں۔ نامزدگیوں کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد خواہشمند امیدوار اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا انہیں پارٹی ٹکٹ ملے گا یا نہیں، جس کے لیے وہ قائدین کے چکر لگا رہے ہیں اور بی فارم کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔ نامزدگیوں کی واپسی کی آخری تاریخ 3؍ فروری مقرر ہونے کے باعث اس تاریخ تک بی فارم جمع کروانے والے امیدواروں کو ہی باضابطہ پارٹی امیدوار تصور کیا جائے گا ۔سیاسی حلقوں کے مطابق کانگریس اور بی جے پی مختلف سروے رپورٹس کی بنیاد پر کامیاب امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہی ہیں، جبکہ بی آر ایس اور ایم آئی ایم مضبوط امیدواروں کو ترجیح دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ سابق ایم ایل سی کویتا فارورڈ بلاک پارٹی کے ساتھ اشتراک کے ذریعہ انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بلدیات کے لحاظ سے نامزدگیوں کی تفصیلات کے مطابق نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں 1005 نامزدگیاں داخل ہوئیں جن میں 777 امیدوار شامل ہیں، بودھن میں 342 نامزدگیاں اور 245 امیدوار، آرمور میں 298 نامزدگیاں اور 195 امیدوار جبکہ بھیمگل میں 113 نامزدگیاں اور 75 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ جناسینا، عام آدمی پارٹی اور ٹی ڈی پی کے قائدین نے بھی نظام آباد کارپوریشن کے مختلف ڈویژنس سے نامزدگیاں داخل کی ہیں۔نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں میئر کا عہدہ جنرل خاتون کے لیے محفوظ ہونے کے باعث میئر کے انتخاب پر زبردست مقابلے کی فضا قائم ہے۔ کانگریس، بی جے پی اس عہدہ کے حصول کے لیے سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی اس مرتبہ ہر صورت میں میئر کا عہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ گزشتہ انتخابات میں محض دو نشستوں کے فرق سے میئر شپ سے محروم رہنے والی بی جے پی نے اس بار میئر کے عہدہ کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے، اگرچہ تاحال کسی بھی پارٹی نے باضابطہ طور پر میئر امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔بلدی انتخابات کے لیے نامزدگیوں کا عمل جمعہ کے روز کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں نظام آباد شہر کے 60 ڈویژنس کے لیے مجموعی طور پر 1005 نامزدگیاں داخل کی گئیں۔ پہلے دن 13، دوسرے دن 228 جبکہ آخری دن 764 نامزدگیاں داخل ہوئیں۔ نامزدگیوں کی وصولی شام 5 بجے تک کی گئی، تاہم قطاروں میں موجود افراد کو ٹوکن جاری کرتے ہوئے رات دیر گئے تک ان کی نامزدگیاں قبول کی گئیں۔ اس عمل کا ضلع کلکٹر ایلا تریپاٹھی نے جائزہ لیا اور شام 7 بجے بڑے بازار واٹر ٹینک زون آفس میں قائم نامزدگی مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں سے بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے ڈویژن نمبر 3، 6، 9، 11، 21، 24، 27، 29، 31، 32، 33، 34، 36، 49، 53 اور 54 جنرل خاتون کے لیے محفوظ ہیں، جبکہ ڈویژن نمبر 1، 4، 5، 8، 10، 18، 19، 25، 26، 30، 35، 47، 50 اور 55 جنرل ریزرو زمرے میں شامل ہیں۔ ان حالات میں کارپوریشن کے مجموعی طور پر 30 ڈویژنس سے کامیاب ہونے والی جنرل خاتون امیدواروں کے میئر منتخب ہونے کے امکانات روشن قرار دیے جا رہے ہیں۔