بلدی انتخابات میں بی جے پی مستحکم ہونے کوشاں

   

کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم سے محفوظ رکھنے حکمت عملی سے کام لینے کی ضرورت
حیدرآباد۔8۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاری بلدی انتخابات کی مہم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ قومی قائدین کی شرکت کے ذریعہ پارٹی کو مستحکم کرنے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں اس میں بی جے پی کو کامیابی حاصل نہ ہو اس کے لئے سیکولر امیدواروں بالخصوص کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم سے محفوظ رکھنے کے لئے منظم حکمت عملی سے کام لینا ضروری ہوچکا ہے کیونکہ تلنگانہ کی شہری بلدیات بالخصوص محبوب نگر ‘ نظام آباد‘ کریم نگر کے علاوہ عادل آباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی کی راہیں ہموار کرنے کوشاں ہے۔ اضلاع میں جہاں بلدی انتخابات کی مہم شدت کے ساتھ چلائی جا رہی ہے مقامی طور پر سرکردہ شخصیات اور بااثر تنظیموں کے ذمہ دار بلدی انتخابات میں قومی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے علاقائی جماعت کو مستحکم کرنے کی بات کرنے لگے ہیں اور کہاجا رہاہے کہ بلدی انتخابات کا تعلق تلنگانہ اور تلنگانہ کے اضلاع سے ہے اسی لئے علاقائی جماعت کے استحکام کے ذریعہ ہی قومی جماعتوں کو یہ پیغام دیا جاسکتا ہے کہ تلنگانہ عوام فرقہ پرستی سے بالاتر ہوتے ہوئے ریاست میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ نظام آباد میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کارپوریشن پر قبضہ کی توقع ہے مقامی رائے دہندوں کا کہناہے کہ بی جے پی کو کارپوریشن میں اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے لازمی ہے کہ سیکولر ووٹ کو تقسیم سے بچاتے ہوئے علاقائی پارٹی کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے کیونکہ گذشتہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے نتیجہ میں رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے علاوہ حلقہ اسمبلی نظام آباد سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی ممکن ہوپائی تھی۔ اسی طرح ضلع کریم نگر میں بھی پارٹی تعلق سے بالاتر ہوتے ہوئے بی جے پی کو کارپوریشن پر قبضہ سے روکنے کے لئے سیکولر قائدین منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور ان کا کہناہے کہ دونوں قومی سیاسی جماعتیں کانگریس اور بھارتیہ جنتاپارٹی مقامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جبکہ ترقیاتی امور پر دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ تلنگانہ کے بلدی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین بھی کلیدی کردار ادا کررہی ہے اور کہا جارہاہے کہ نظام آباد‘ کریم نگر ‘ عادل آباد کے علاوہ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں کی بلدیات میں مجلس کی انتخابی مہم بھی شدت کے ساتھ جاری ہے اور کئی بلدیات میں مجلس کو بادشاہ گر کا موقف حاصل ہونے کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے تلنگانہ میں استحکام کو روکنے کے سلسلہ میں جس طرح کی حکمت عملی سرکاری طور پر کی جانی چاہئے تھی اس میں برسراقتدار پارٹی کے ناکام ہونے کا احساس شدت سے پایا جانے لگا ہے۔3