بلدی انتخابات میں مقابلہ آرائی کے لیے ٹی آر ایس قائدین کی مسابقت

   

حصول ٹکٹ کے لیے دعویداری ، کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل قائدین سے ٹی آر ایس کے سینئیر قائدین ناراض
حیدرآباد۔25ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں شیڈول جاری کئے جانے کے ساتھ ہی تلنگانہ راشٹرسمیتی میں ٹکٹ کے دعویداروں کی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے اور ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے سرکردہ قائدین کی جانب سے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی فہرست کارگذار صدر تلنگانہ راشٹر سمیتی کو پیش کی جانے لگی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ کانگریس سے تلنگانہ راشٹرسمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین جو کہ بااثر عہدوں پر پہنچ چکے ہیں ان سے سینیئر ٹی آر ایس قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ کانگریس سے تلنگانہ راشٹرسمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کی جانب سے ان کے اپنے حامیوں کے سیاسی مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے انہیں ٹکٹ فراہم کرنے کیلئے پارٹی قیادت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ سینیئر قائدین ٹی آر ایس جو کہ ابتداء سے ہی ٹی آر ایس میں ہے ان کے مطالبات اور نمائندگیوں کو نظر انداز کرنے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں جو کہ پارٹی کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ تلنگانہ راشٹرسمیتی کے سینیئر قائدین کا کہناہے کہ اگر ان کے امیدواروں کو ٹکٹ نہ دیتے ہوئے وزراء کے افراد خاندان یا حامیوں کو ٹکٹ دیئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پارٹی کے سرگرم کارکن باغی امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتر سکتے ہیں کیونکہ چند ماہ قبل پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اگر کوئی قائد پارٹی پر اجارہ داری چلانے کی کوشش کرتا ہے تو ایسی صورت میں ان کی اس اجارہ داری کو چلنے نہیں دیا جاسکتا ۔پارٹی قائدین کا کہناہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پارٹی کیلئے کام کرنے والوں کو نظر انداز نہیں کریں گے

اور نہ ہی ان کے ساتھ ناانصافی ہونے دی جائے گی اسی لئے وہ ٹکٹ کے اعلان تک کوئی سخت فیصلہ نہیں کریں گے اور اگر ٹکٹوں کی تقسیم پر دیگر سیاسی جماعتوں سے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ خاموش نہیں رہیں گے۔حالیہ عرصہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سرکردہ قائدین نے کارگزار صدر مسٹر کے ٹی راما راؤ کو اپنے خدشات سے واقف کرواتے ہوئے پارٹی کیلئے برسوں سے کام کرنے والے قائدین کے سیاسی مستقبل اور ان کی ترقی کے سلسلہ میں نمائندگی کی تھی لیکن اس کے برعکس وزراء اور دیگر پارٹیوں سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین اپنے افراد خاندان کے علاوہ حامیوں کو امیدواروں کی حیثیت سے عوام کے درمیان پیش کرنے لگے ہیں جو کہ پارٹی کے اصولوں کے خلاف ہے ۔