بلدی چناؤ کے آج نتائج ، صبح 8 بجے رائے شماری کا آغاز

   

کاؤنٹنگ مراکز پر سخت سیکوریٹی ، شفافیت سے ووٹوں کی گنتی کیلئے اسٹیٹ الیکشن کمشنر کی ہدایت
حیدرآباد 12 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 7 کارپوریشنوں اور 116 میونسپلٹیز کے نتائج کا کل 13 فروری کو اعلان ہوگا اور اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے رائے شماری کے انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ 116 میونسپلٹیز کے 2569 اور 7 کارپوریشنوں کے 412 بلدی وارڈس کیلئے چہارشنبہ کو رائے دہی ہوگئی اور تمام اہم سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں میں نتائج پر بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پولیس اور دیگر محکمہ جات کے تعاون سے رائے شماری کے انتظامات کو قطعیت دی ہے اور رائے شماری مراکز کے اطراف امتناعی احکام نافذ کئے گئے تاکہ امکانی تشدد سے نمٹا جاسکے۔ بلدی چناؤ میں 73 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ 12 بلدی وارڈس میں بلا مقابلہ انتخاب عمل میں آیا جبکہ بی جے پی امیدوار کی موت سے ایک وارڈ میں الیکشن ملتوی کیا گیا۔ رائے شماری کا جمعہ کی صبح 8 بجے سے آغاز ہوگا اور توقع ہے کہ دوپہر تک کارپوریشنوں اور میونسپلٹیز کے نتائج منظر عام پر آجائیں گے ۔ رائے دہی کے دوران بعض اضلاع میں کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی کارکنوں میں معمولی جھڑپ کے واقعات پیش آئے۔ تاہم کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ رائے دہی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ رائے دہی کے بعد تینوں پارٹیوں نے اگزٹ پول نتائج کی بنیاد پر اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ۔ زیادہ تر اگزٹ پول کانگریس کے حق میں ہیں جبکہ بی آر ایس نے بھی اگزٹ پول نتائج کو مسترد کرکے اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ رائے شماری کی تکمیل اور نتائج کے اعلان کے بعد امیدواروں کو کامیابی کے جلوس نکالنے کی اجازت نہیں رہے گی۔ 16 فروری کو منتخب وارڈ ممبرس کی حلف برداری رہے گی جس کے بعد کارپوریشنوں میں میئر اور ڈپٹی میئر جبکہ میونسپلٹیز میں چیر پرسن اور وائس چیر پرسن کا الیکشن ہوگا۔ اسی دوران اسٹیٹ الیکشن کمشنر رانی کمودنی نے ضلع کلکٹرس اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کی ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کرکے رائے شماری کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے شفافیت سے رائے شماری کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ضلع کلکٹرس اور الیکشن کمیشن کے مبصرین رائی شماری کی نگرانی کریں گے۔ بیالٹ باکسس کو اسٹرانگ رومس میں محفوظ کردیا گیا ہے جہاں زائد سیکوریٹی تعینات کی گئی۔ کانگریس ، بی آر ایس ، بی جے پی اور دیگر پارٹیوں نے رائے شماری کیلئے اپنے ایجنٹس کا تقرر کیا ہے جنہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے شناختی کارڈس جاری کئے گئے ۔ رائے دہی کے مراکز کے اطراف امتناعی احکام نافذ رہیں گے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلہ پر پابندی رہے گی۔ 12 ہزار سے زائد امیدواروں کے بارے میں رائے دہندوں کے فیصلہ کا ہر کسی کو بے چینی سے انتظار ہے۔1