بلیا20مارچ(سیاست ڈاٹ کام ) نربھئے کے مجرمین کو پھانسی ہونے کے بعد اترپردیش کے ضلع بلیا میں جمعہ کو نربھئے کے گاؤں میں جشن کا ماحول تھا۔ گاؤں کی گلیوں میں پھوٹتے پٹاخے و ٹمٹماتے قمقمے دیوالی کا نظارہ پیش کررہے تھے ۔فضا میں اڑتے گلال نے گاؤں کو خوشیوں میں رنگ دیا تھا۔نربھئے کے ساتھ حیوانیت کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکنے کے بعد جمعہ کو گاؤں کے لوگوں نے انار پھوڑے اور ایک دوسرے کے چہرے پر گلال لگا کر ہولی و دیوالی ایک ساتھ منائی۔جمعہ کو نربھئے معاملے کے مجرمین کو پھانسی دئیے جانے کی خبر جیسے ہی گاؤں میں پہنچی سارا گاؤں نربھئے کے گھر کے سامنے یکجا ہوگیا۔ خوشی کی وجہ سے نربھئے کے داداکی آنکھیں بار۔بار آبدیدہ ہورہی تھیں۔ چچا سریش سنگھ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ گاؤں نے ہولی سے پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ گاؤں اس دن ہولی منائے گا جس دن گاؤں کی بیٹی کے ساتھ درندگی کرنے والے درندوں کو پھانسی دی جائے گی۔ہولی کے دن اس گاؤں میں نہ تو کسی نے رنگ کھیلا اور ہی ہی کسی نے کسی کو گلال لگایا تھا۔ لیکن آج جیسے ہی گاؤں میں درندوں کو پھانسی دئیے جانے کی اطلاع پہنچی پورا گاؤں جشن میں ڈوب گیا۔پٹاخے پھوٹنے لگ۔پھر سارا گاؤں رنگ کے تیوہار میں ڈوب گیا۔سبھی کی آنکھی خوشی سے آبدیدہ تھیں۔نربھئے کے دادا لال جی سنگھ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ آج کا دن ملک کے بیٹوں کے لئے بے خوف ہونے کا دن ہے ۔ انہوں نے حکومت سے ‘20مارچ’ کی تاریخ کو ‘نربھئے دیوس’ اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ بابا کو اس بات کا ملال ہے کہ نربھئے کو حوالے سے حکومت نے جتنے بھی وعدے کئے تھے وہ سب ادھورے پڑے ہیں۔انہون نے کہا کہ گاؤں میں نربھئے کی یادو میں اسپتال تو بند لیکن علاج کے لئے ڈاکٹر اور دیگر ملازمین کا بندوبست نہیں کیا گیا۔گاؤں میں سڑکیں اور نالیاں بنانے کا وعدہ آج بھی پورا نہیں ہوا ہے ۔