بنگال میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے پُراسرار سافٹ ویر کا استعمال

   

کمیشن کے افسران نے بھی سافٹ ویر کی گڑبڑی تسلیم کرلی ہے، ٹی ایم سی کے ساکیت گوکھلے کا بیان

نئی دہلی، 6 فروری (یو این آئی) ترنمول کانگریس نے جمعہ کو الیکشن کمیشن پر مغربی بنگال میں ووٹر فہرست سے بڑے پیمانے پر نام ہٹانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ نام کے الیکشن کمیشن کی جانب سے استعمال کردہ ایک پراسرار خراب سافٹ ویئر کے ذریعہ ہٹائے گئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا کے رکن ساکیت گوکھلے نے کہا کہ اب تو کمیشن کے افسران نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ سافٹ ویئر کی گڑبڑی کی وجہ سے صحیح ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کئی مہینوں سے اس معاملے کو اٹھا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ آخرکار کمیشن کے افسران نے بھی مان لیا ہے کہ بنگال کی ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام ایک پراسرار خراب سافٹ ویئر کی وجہ سے ہٹائے گئے ہیں۔ ہمارے لیڈر مہینوں سے اس مسئلے کی نشاندہی کر رہے تھے ، پھر بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار خاموش رہے ۔ مبینہ سافٹ ویئر پر سوال کرتے ہوئے مسٹر گوکھلے نے کہا کہ یہ نظام کس نے تیار کیا اور خراب ہونے کے باوجود اس کا استعمال کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے لیے یہ پراسرار سافٹ ویئر کس نے بنایا جو درست ووٹروں کے نام ہٹا دیتا ہے؟ کمیشن کو معلوم ہونے کے باوجود کہ یہ خراب ہے ، اسے فوری طور پر کیوں نہیں روکا جا رہا؟ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے اس معاملے میں سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی پر الیکشن کمیشن کو کنٹرول کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں چھیڑ چھاڑ کی کوششوں میں ناکامی کے بعد، بی جے پی کے کنٹرول والے الیکشن کمیشن نے دہلی میں بیٹھ کر انتخابی افسران کو بائی پاس کرتے ہوئے ایک سافٹ ویئر کے ذریعے ووٹروں کے نام ہٹا دیے۔ یہ اعلیٰ سطح کی انتہائی گندی چال ہے ۔گوکھلے نے یہ الزامات ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل کے درمیان لگایاہے ۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنا ایک باقاعدہ عمل ہے ، جس میں فرضی، منتقل ہو چکے یا فوت شدہ ووٹروں کے نام ہٹائے جاتے ہیں اور نئے اہل ووٹروں کو شامل کیا جاتا ہے ۔
سیاسی جماعتیں اس عمل پر گہری نظر رکھتی ہیں، خاص طور پر انتخابات سے پہلے ، اس خدشے کے پیش نظر کہ غلطیوں کی وجہ سے ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو جائیں۔ تادم تحریر الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم کمیشن پہلے واضح کر چکا ہے کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلیاں طے شدہ طریقۂ کار اور کئی سطحوں کی جانچ کے بعد کی جاتی ہیں، جس میں بوتھ لیول افسران اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔
ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مکمل وضاحت نہ دی جائے ، اس مبینہ سافٹ ویئر کا استعمال فوری طور پر بند کیا جائے ۔

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے 50,000 نام ہٹانے کی تیاری

کولکاتہ، 6فروری (یو این آئی) الیکشن کمیشن مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے 50,000 سے زائد ایسے ووٹرز کے نام حذف کی تیاری کر رہا ہے جنہیں ‘ان میپڈ’ زمرے میں رکھا گیا تھا۔ چیف الیکشن افسر کے دفتر کے مطابق، الیکشن رجسٹریشن افسران نے ‘ان میپڈ’ کے طور پر نشان زد 3,168,426 ووٹرز کو سماعت کیلئے نوٹس جاری کیے تھے ۔ ان میں سے تقریباً 1.57 فیصد ووٹرز نے بار بار بلانے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کے نام حتمی ووٹر لسٹ سے نکالنے کیلئے نشان زد کر دیے گئے ہیں۔ ‘ان میپڈ’ ووٹرز سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی اہلیت ثابت کرنے کیلئے ضروری دستاویزات کے ساتھ انتخابی حکام کے سامنے پیش نہیں ہوئے ۔ ان کے نام 2002 کی ووٹر لسٹ کے ساتھ خود کی تصدیق یا خاندانی تعلق کے ذریعے نہیں جوڑے جا سکے ۔ ان میپڈووٹرز کی تصدیق کا عمل اب مکمل ہو چکا ہے ۔ اب انتظامیہ کی توجہ ‘مخصوص بے ضابطگیوں’ والے کیسز پر مرکوز ہے ۔ ایسے معاملات کی سماعت جاری ہے جن میں خاندان کی تفصیلات میں غلطیاں شامل ہیں۔ اس کے تحت کل 9,449,132 ووٹرز کو سماعت کیلئے بلایا گیا ہے ۔ یہ پورا عمل 7 فروری تک مکمل ہونے کی امید ہے ۔ یہ وسیع تصدیقی مہم گزشتہ سال دسمبر میں ووٹر لسٹ کے ڈرافٹ کی اشاعت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس میں پہلے ہی وفات پانے والے ، منتقل ہونے والے یا ڈپلیکیٹ پائے گئے 5,820,899 ناموں کو حذف کیا جا چکا ہے ۔ الیکشن کمیشن 14 فروری کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کرے گا، جس کے بعد حذف کیے گئے ناموں کی اصل تعداد واضح ہوگی۔ اس کے فوراً بعد، الیکشن کمیشن کا ایک مکمل بنچ اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے پہلے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مغربی بنگال کا دورہ کرے گا۔