جمہوری اداروں میں اصلاحات کے بعد آزادانہ، منصفانہ انتخابات کا منصوبہ
ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس نے عالمی برادری کو بتایا کہ حکومت جمہوری اداروں میں اصلاحات کے بعد آزادانہ، منصفانہ اور شرکت پر مبنی انتخابات کرائے گی۔ اتوار کے روز پروفیسر یونس نے 60 سے زائد غیر ملکی سفارت کاروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ پہلی باضابطہ ملاقات کی۔ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں میں سینکڑوں اموات کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ مستعفی ہو کر ہندوستان چلی گئیں، جس کے بعد نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس نے 8 اگست کو پیرس سے ڈھاکہ پہنچنے کے بعد ملک کی نگران حکومت کے سربراہ کے طور پر عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ ڈھاکہ سے شائع ہونے والے روزنامہ دا ڈیلی اسٹار کے مطابق محمد یونس نے کہا کہ عبوری حکومت اصلاحات کے ایک سلسلے کے بعد ملک کو نئے انتخابات کے لیے تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ہم الیکشن کمیشن، عدلیہ، سیول انتظامیہ، سکیورٹی فورسز اور میڈیا میں اہم اصلاحات کرنے کا اپنا مینڈیٹ مکمل کر لیں گے، ہم آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کریں گے۔بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک کے حالات اب بھی ٹھیک نہیں ہیں اور ملک کے بعض حصوں میں پر تشدد واقعات پیش آرہے ہیں ۔ خاص طور پر بنگلہ دیش میں مقیم اقلیتوں جن میں ہنددوں کی بڑی تعداد شامل ہے ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس ہر محمد یونس نے اقلیتوں کے تحفظ کا یقین دلایا ہے ۔