ڈھاکہ : بنگلہ دیش کے جنوب مشرق میں مون سون کی بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 70 ہزار افراد محصورہو کر رہ گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ انخلاء کے منتظر افرادکوپناہ گاہ، صاف پانی اور خوراک کی شدید ضرورت ہے۔اطلاع کے مطابق بندربن، جہاں پانچ دنوں سے بجلی فراہم نہیں کی گئی ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکیں بند ہیں، مانسون کی بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہے، حکام نے بتایا کہ چٹگرام، بندربن، رنگامتی اور کاکس بازار کے علاقوں میں 70,000 افراد جو محصور ہوگئے تھے ان کوبچایا گیا اور پناہ گاہوں میں رکھا گیا ہے۔حکام نے کہا ہے کہ کم از کم 200 روہنگیا پناہ گزینوں کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں سے محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ چٹاگانگ کو سے گزرنے والی شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔بنگلہ دیش کی موسمیاتی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 اگست تک شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ناکافی انفراسٹرکچر کی وجہ سے سیلاب آسکتا ہے۔منگل کو بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 4 روہنگیا مسلمان مہاجرین سمیت 7 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔