بولیویا میں بغاوت کی کوشش ناکام، فوج اپنی بیرکوں میں واپس

   

سکرے : جنوبی امریکی ملک بولیویا میں فوج نے صدارتی محل سمیت متعدد سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولتے ہوئے دارالحکومت کے مرکزی چوک پر بھی قبضہ کرلیا۔بعد ازاں، بولیوین صدر کی جانب سے عوام سے ممکنہ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے گھروں سے نکلنے اور عالمی حمایت کی اپیل کے بعد فوج صدارتی محل سمیت دیگر سرکاری عمارتوں اور دارالحکومت کے سینٹرل اسکوائر سے واپس روانہ ہونا شروع ہو گئی۔خبر کے مطابق، فوجی حملے کے بعد بولیویا کے صدر لوئس آرس نے فوجی اہلکاروں کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر غیر متحرک ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔صدر لوئس آرس نے اپنے ویڈیو بیان میں فوجی افسران کو حکم دیا کہ اگر وہ عسکری کمان کے قوانین کا احترام کرتے ہیں تو وہ تمام فوجیوں کو واپس بلا لیں۔بولیویا کے صدر نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بظاہر ہونے والی کسی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔انہوں نے کہا کہ بولیویا کے عوام کو اس بغاوت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں خود کو متحرک اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔بولیویا میں پیدا ہونے والے اس تازہ صورتحال سے متعلق وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا ہے کہ امریکہ ساری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتا ہے۔دوسری جانب ترکیہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے۔ترک امور خارجہ کا کہنا ہے کہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے خلاف بغاوت کی یہ کوشش ہمارے لیے باعث تشویش ہے البتہ امید کی جاتی ہے جلد ہی ملک میں جمہوری اقدار اور استحکام کی بحالی کا قیام عمل میں لا یا جائے گا۔ امور خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ جمہوری نظام کے خلاف اقدامِ بغاوت کی ایسی تمام کوششوں کی مذمت کرتا ہے۔