بوگس رائے دہی روکنے ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنا ضروری

   

تمام سرکاری خدمات آدھار سے مربوط، شہر میں بوگس ناموں کی نشاندہی سے سیاسی پارٹیاں پریشان

حیدرآباد۔/15 اکٹوبر، ( سیاست نیوز)الیکشن کمیشن نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے اور آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنانے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنران نے اپنے دورہ حیدرآباد کے موقع پر سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی جس میں ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کیلئے بعض پارٹیوں نے نمائندگی کی لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کیلئے بوگس ووٹنگ کو روکنا ضروری ہے اور اس سلسلہ میں ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کا عمل مثبت نتائج دے سکتا ہے۔ طویل عرصہ سے رضاکارانہ تنظیموں اور جہد کار آدھار کو ووٹر آئی ڈی سے مربوط کرنے کی مانگ کررہے ہیں تاکہ بوگس رائے دہی کے ذریعہ کامیابی کے رجحان کو روکا جاسکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب پیان کارڈ، بینک اکاؤنٹ، ایل پی جی کنکشن اور حکومت کی امدادی اسکیمات سے استفادہ کیلئے آدھار سے مربوط کرنا ضروری ہے تو پھر ووٹر شناختی کارڈ سے کیوں نہیں؟ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے حالیہ عرصہ میں کئی سرکاری خدمات کو آدھار سے مربوط کردیا۔ سیاسی پارٹیاں ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کی مخالفت محض اس لئے بھی کررہی ہیں کیونکہ وہ متوفی ووٹرس کے ووٹ باآسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ جہد کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آدھار کو ووٹر شناختی کارڈ سے مربوط کردیا جائے تو بوگس رائے دہی بڑی حد تک ختم ہوجائے گی۔ سیاسی پارٹیاں عام طور پر فرضی ناموں کو فہرست رائے دہندگان میں شامل کرتے ہوئے اپنے حق میں رائے دہی کرانے کے عادی بن چکے ہیں۔ گذشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں تقریباً 10 لاکھ بوگس ناموں کی نشاندہی کی ہے۔ کئی اسمبلی حلقہ جات میں بوگس ناموں کی نشاندہی کے باوجود مخصوص پارٹیاں مزید ناموں کو شامل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال تک یہ سہولت موجود ہے۔ رائے دہندوں کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کے دعویٰ کو درست ثابت کرنے کیلئے ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنا چاہیئے۔
نارائن پیٹ میں تیندوا پکڑاگیا
حیدرآباد 15 اکتوبر(یواین آئی) تلنگانہ کے ضلع نارائن پیٹ میں محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے تیندوے کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کرلی جس کی وجہ سے عوام کافی پریشان تھے ۔اس تیندوے نے ضلع کے عوام میں خوف پیدا کردیا تھا۔ضلع کے رکونڈا گاؤں میں جنگلات کے عہدیداروں کی طرف سے لگائے گئے پنجرے میں یہ تیندوا پھنس گیا۔ کسانوں نے بتایا کہ گاؤں کے قریب تالاب کے پشتے پر چند دنوں سے یہ تیندوا گھوم رہا تھا۔