مذہبی و دیگر مقامات کی نشاندہی ۔ نمائندگیوں کا بھی جائزہ
حیدرآباد 19 اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے اقدامات میں سب سے اہم رائے دہی کے دن تلبیس شخصی کے ذریعہ ووٹ کے استعمال کو روکنا ہوتا ہے اور اس کیلئے چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ اور الیکشن کمیشن سے حساس مراکز رائے دہی کی نشاندہی اور ان کی ویب کاسٹنگ کو یقینی بنانے کے علاوہ ان مراکز پر نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا لیکن بعض جماعتوں کی جانب سے ووٹر لسٹ پر اعتراض کے علاوہ بوگس رائے دہی کے ہتھکنڈوں پر کہا جارہا ہے کہ مذہبی مقامات کو تلبیس شخصی کیلئے استعمال کرنے اور بوگس ووٹرس کو جمع کرنے کی جگہ بنائے جانے کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ مذہبی مقامات کے ذریعہ بوگس رائے دہی کیلئے خواتین اور نوجوانوں کو روانہ کرنے کے واقعات جن مقامات پر پیش آچکے ہیں ان پر نظر رکھنے کے علاوہ دیگر مقامات کی نشاندہی کی ضرورت ہے ۔ الیکشن کمیشن عہدیداروں کے مطابق اگر عوام خود اپنے ووٹ کے استعمال کیلئے نکلتے ہیں تو تلبیس شخصی سے رائے دہی کرنے والوں کو موقع نہیں ملے گا اور نہ ہی وہ دیگر شہریوں کے ووٹ استعمال کرپائیں گے۔ شہر کے بیشتر حلقہ جات میں حساس مراکز رائے دہی کی شکایات اور سابق میں عدالتی فیصلوں کے بعد سختی کو اس مرتبہ بھی برقرار رکھنے نمائندگیوں کے متعلق کمیشن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں حساس مراکز رائے دہی کی نشاندہی کی جا رہی ہے ان کے علاوہ جن مراکز پر بوگس رائے دہی کے خدشات ہیں ان پر صیانتی انتظامات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق شہر و پڑوسی ضلع میں بعض حلقوں کیلئے مختلف جماعتوں کی نمائندگی کا چیف الکٹورل آفیسر کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور انتظامات کو سخت بنانے اقدامات کی ہدایا ت جاری کی جائیں گی۔