کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کا اجلاس ، شیخ عبداللہ سہیل، فرحان اعظمی اور شکیل نواز کی شرکت
حیدرآباد ۔6 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی تلنگانہ میں آمد کے موقع پر اقلیتوں کی جانب سے شاندار استقبال اور یاترا میں بھاری تعداد میں اقلیتی کارکنوں کی شرکت کو یقینی بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہے ۔ توقع ہے کہ راہول گاندھی کی یاترا 24 اکتوبر کو تلنگانہ میں داخل ہوگی اور 14 دن تک جاری رہے گی ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے لئے وسیع تر انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے تمام اضلاع کے صدور کو اس سلسلہ میں ہدایات جاری کیں۔ شیخ عبداللہ سہیل نے ان اضلاع کے اقلیتی قائدین کا اجلاس منعقد کیا جہاں سے بھارت جوڑو یاترا گزرے گی۔ اس موقع پر اے آئی سی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری فرحان اعظمی اور بھارت جوڑو یاترا کے کوآرڈینیٹر شکیل نواز موجود تھے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ مکتھل سے جوگی پیٹ تک یاترا کے دوران اقلیتی طبقہ کے عوام کثیر تعداد میں شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے راستے میں راہول گاندھی کے اقلیتوں سے خطاب کا پروگرام زیر غور ہے۔ تمام ضلع یونٹس کو یاترا کے راستے میں راہول گاندھی کے استقبال کیلئے بڑی تعداد میں اقلیتی کارکنوں کو اکھٹا کرنے کی ہدایات دی گئی ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ کرناٹک میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا اور تلنگانہ میں بھی یاترا کامیاب رہے گی۔ اقلیتوں کی بھاری تعداد میں شرکت کے ذریعہ یہ پیام دیا جائے گا کہ عوام بی جے پی اور اس کی خفیہ حلیف جماعتوں ٹی آر ایس اور مجلس کی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف ہیں۔ ملک میں سیکولرازم اور جمہوریت کے تحفظ کے علاوہ نفرت پر مبنی سیاست کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کیلئے بھارت جوڑو یاترا شروع کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طبقہ کے دانشوروں ، ماہرین تعلیم اور مذہبی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں کے ساتھ راہول گاندھی کے اجلاس کا منصوبہ ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کریں گے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود میں ناکام ہوچکی ہے ۔ 12 فیصد تحفظات کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ اقلیتوں کیلئے 50 فیصد بجٹ بھی جاری نہیں کیا جاتا۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ راہول گاندھی کی یاترا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ر