بھارت راشٹر سمیتی کو اقتدار ناممکن ،50 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کا نشانہ

   


17 ریاستوں کے پارلیمانی انتخابات میں محفوظ نشستوں پر مقابلہ متوقع
حیدرآباد۔5۔اکٹوبر(سیاست نیوز) بھارت راشٹر سمیتی ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ آئندہ انتخابات میں قومی سطح پر 50 نشستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کے نشانہ کے ساتھ عام انتخابات میں حصہ لے گی۔ذرائع کے مطابق بھارت راشٹر سمیتی نے ملک بھر کی 17 ریاستوں بشمول تلنگانہ کی پارلیمانی نشستوں پر مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور بی آر ایس کے منصوبہ کے مطابق تلنگانہ کی17پارلیمانی نشستوں کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ نشستوں پر مقابلہ کے ذریعہ پارلیمنٹ میں قائد اپوزیشن کی نشست حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہاہے ۔ملک بھر کے دلت قائدین اور ان کی تنظیموں کو بی آر ایس اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی جانب سے دلتوں اور قبائیلی آبادی کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے واقف کرواتے ہوئے دیگر ریاستوں میں قدم جمانے کی کوشش کی جائے گی۔کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ کے سی آر قومی سطح پر 1984 کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب این ٹی راما راؤ نے 42نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ اپوزیشن جماعت کا موقف حاصل کیا تھا ۔2024 عام انتخابات کے دوران کے سی آر بھی 50 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی کے حصول کی کوشش کریں گے اور پارلیمنٹ میں مضبوط اپوزیشن کا کردار حاصل کرسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملک کی 17 ریاستوں میں ایسی 50 پارلیمانی نشستوں کی نشاندہی بھارت راشٹرسمیتی نے کرلی ہے جہاں دلت طبقات کی غالب آبادی ہے اور جو محفوظ نشستیں ہیں۔پسماندہ طبقات ‘ دلت اور ایس سی‘ ایس ٹی طبقات کے لئے محفوظ نشستوں پر بھارت راشٹر سمیتی کے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے ان نشستوں پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے علاوہ ریاست میں دلتوں کے لئے چلائی جارہی دلت بندھو اسکیم کے متعلق واقف کرواتے ہوئے اسے قومی سطح پر شروع کرنے کے وعدے کئے جائیں گے ۔بتایاجاتا ہے کہ کے سی آر تلنگانہ ‘ آندھرا پردیش‘ اترپردیش ‘ کرناٹک ‘ بہار کے علاوہ تمل ناڈواور دیگر ریاستوں کے دورہ کے ذریعہ عوام تک رسائی حاصل کریں گے اور ان کے درمیان اپنے منصوبہ کو پیش کریں گے۔م