بھاری رقم ادا کرنے کے باوجود سینکڑوں امیدوار انجینئرنگ کالجس میں داخلوں سے محروم

   

طلبہ اور کالجس کے درمیان تناؤ ، ہائر ایجوکیشن کونسل کے دفتر پر طلبہ کا احتجاج
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے چند انجینئرنگ کالجس کے انتظامیہ اور امیدواروں کے درمیان نشستوں کے مسئلہ پر ٹھن گئی ہے ۔ ڈیمانڈ نہ رکھنے والے کورسیس کو منسوخ کرنے والے کالجس نے ان کی جگہ پر نئی نشستیں حاصل ہونے کی امید کرتے ہوئے مینجمنٹ کوٹہ میں داخلے دینے کا وعدہ کرتے ہوئے طلبہ سے بھاری رقومات وصول کرلیا ہے ۔ تاہم حکومت نے نئی نشستوں کی منظوری نہیں دی ۔ جس کے خلاف کالجس نے ہائی کورٹ کا بھی رخ کیا ہے ۔ پھر بھی انہیں راحت نہیں ملی جس سے طلبہ مایوس ہوگئے ۔ مختلف انجینئرنگ کالجس کے انتظامیہ نے تقریبا 5 ہزار طلبہ کو داخلے دینے کا بھروسہ دلایا جس میں ٹاپ کالجس کی اکثریت ہے ۔ داخلے نہ ملنے سے طلبہ اور ان کے والدین پریشان ہیں ۔ ہر حال میں داخلے دینے کا امیدوار مطالبہ کررہے ہیں ۔ ہائیر ایجوکیشن کونسل کے دفتر کے روبرو امیدواروں نے گذشتہ روز احتجاج کیا ہے ۔ خانگی کالجس کی جانب سے دھوکہ دینے کی عہدیداروں سے شکایت کی ہے ۔ قیمتی تعلیمی سال سے محروم ہوجانے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انصاف دلانے کی مانگ کی ہے ۔ چند امیدوار جذباتی ہوگئے ۔ انہوں نے داخلے نہ ملنے پر سخت اقدام اٹھانے کیلئے مجبور ہوجانے کا انتباہ بھی دیا ہے جس پر عہدیداروں نے کالجس انتظامیہ سے تبادلہ خیال بھی کیا ہے ۔ تاہم نشستیں دستیاب نہ ہونے کا انہیں جواب ملا ہے ۔ 30 اگست سے 2 ستمبر تک اسپاٹ داخلے دئیے جائیں گے ۔ 3 ستمبر کو اسپاٹ داخلے حاصل کرنے والے طلبہ کو اپنی تفصیلات آن لائن میں اپ لوڈ کرنا ہوگا ۔ تمام دستاویزات ٹکنیکل ایجوکیشن کے شعبہ کو کالجس کو 4 ستمبر تک فراہم کرنا ہوگا ۔۔ 2