اراضی کے معمولی مسائل کوبھی جلد حل کرنا ممکن ‘ شعور بیداری سمینار‘ ضلع کلکٹر کا خطاب
کریم نگر۔20؍ اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع کلکٹر پامیلا ستپاتھی نے کہا کہ بھو بھارتی ایکٹ وہ قانون ہے جو کسانوں کی زمینوں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔ کلکٹر نے ہفتہ کو حضور آباد کے فنکشن ہال میں ریاستی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تلنگانہ بھو بھارتی ایکٹ (لینڈ رائٹس ریکارڈ ایکٹ) 2025 پر منعقدہ بیداری سیمینار میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلع کلکٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بھو بھارتی ایکٹ لایا ہے تاکہ لوگوں بالخصوص کسانوں کو ان کی زمینوں پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مسائل جو دھرانی پورٹل پر نہیں ہیں ان کا حل بھو بھارتی ایکٹ کے ذریعے تلاش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون ریاست کے 4 منڈلوں میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت لاگو کیا جا رہا ہے، اور کسان زمین سے متعلق مزید مسائل کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب دھرانی کا نظام تھا تو اگر کوئی اعتراض تھا تو صرف سول کورٹ جانا پڑتا تھا۔اگر حکام کی جانب سے اراضی کے مسائل کو حل کرنے کے جاری کردہ احکامات پر کوئی اعتراض ہے تو لینڈ ایکٹ کے تحت اپیل کرنے کی بھی سہولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحصیلدار کی طرف سے حل ہونے والے چھوٹے مسائل کو بھی کلکٹر سے رجوع کیا جاتا تھا اور ہزاروں درخواستیں موصول ہونے کی وجہ سے انہیں حل کرنے میں تاخیر ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھوبھارتی کے ذریعہ نچلی سطح کے عہدیداروں کو بھی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جس سے منڈل سطح پر زمین سے متعلق معمولی مسائل کو جلد حل کیا جاسکے گا۔ حضور آباد ریونیو ڈویژنل آفیسر رمیش نے خطاب کیا اور کسانوں کو بھوبھارتی ایکٹ کے سیکشنز اور ان کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو بھوبھارتی میں تین درجے کی اپیل کا نظام ہے۔ اس پروگرام میں ایڈیشنل کلکٹرس پرپل دیسائی، لکشمی کرن، تحصیلدار کنکایا، ریونیو، زراعت، پنچایت کے افسران، کسانوں اور عوام نے شرکت کی۔