Thursday , October 29 2020

بھینسہ میں فرقہ پرستوں کا تشدد ، خوف و دہشت کا ماحول

15 سے زائد مکانات اور 25سے زائد موٹر سائیکلیں نذرآتش ،مسجد میں جائے نمازوں و قرآن شریف کو آگ لگادی گئی

n پولیس عملہ کے بشمول کئی افراد زخمی ، ایک کی حالت تشویشناک
n مسلمانوں کا کافی مالی نقصان n رات کا کرفیو نافذ

بھینسہ 13؍ جنوری (سیاست نیوز ) بھینسہ کے پرُ امن حالات کو شرپسند عناصر کی جانب سے اس وقت مکدر کیا گیا جب ایک مسلم شخص کوربا گلی سے نرمل تبلیغی اجتماع سے واپس لوٹ رہا تھا۔ اکثریتی طبقہ کے فرد نے اسے زد و کوب کرنے کی کوشش کی لیکن مقامی افراد نے مداخلت کرکے معاملہ کو رفع دفع کردیا۔ اس واقعہ کی افواہیں شہر میں گشت کرنے کی کچھ ہی دیر میں محلہ کوربا گلی عقبی حصہ مسجد مومنان علاقہ میںاکثریتی طبقہ کے سینکڑوں افراد نے جمع ہوکر مسلم مکانوں پر سنگباری شروع کردی اور کانچ کے شیشے بھی پھینکے ۔اس واقعہ کے دوران بھینسہ کے تمام مسلمان مرد نرمل اجتماع میں تھے اور مسلم مکانوں میں صرف خواتین و معصوم بچے خوف و بے بسی کی حالت میں تھے جس کا فائدہ اٹھاکر اکثریتی طبقہ کے شرپسندوں نے دیڑھ گھنٹہ سنگباری کی ۔ بھینسہ ڈی ایس پی نرسنگ رائو ، ٹائون سرکل انسپکٹر وینو گوپال رائو اور دو سب انسپکٹران کے علاوہ چند جوانوں نے حالات کو قابو کرنے اور اکثریتی طبقہ کو منتشرکرنے کی کوشش کی۔ لیکن اشرار کی سنگباری میں ڈی ایس پی نرسنگ رائو، ٹائون سرکل انسپکٹر وینو گوپال رائو زخمی ہوگئے۔ بعدازاں نرمل ایس پی ششی دھر راجو بھی بھینسہ پہنچ کر حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی لیکن ایس پی بھی اکثریتی طبقہ کی سنگباری کا شکار ہوگئے۔ بعدازاں مسلم نوجوان نرمل اجتماع سے بھینسہ لوٹ کر شہر کے حالات کو دیکھ کر تجسس میں مبتلا ہوگئے اور مسلم خواتین جو کوربا گلی، پنجہ شاہ گلی، مومنان گلی میں موجود تھے خواتین اور معصوم بچوں کو خوف و دہشت سے نکالنے لگے۔ اس دوران محمد اعجاز اور شیخ شملان کے علاوہ ایک مسلم شخص سنگباری میں شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوراً سرکاری دواخانہ منتقل کیا گیا ۔ بعدازاں شرپسندوں نے محلہ ذولفقار میں مسلم مکانات پر حملہ کرکے دو موٹر سیکلوں کو نذرآتش کرکے شہر میں دہشت پیدا کردی ۔ تقریباً دو گھنٹے تک پولیس بھینسہ نہیں پہنچی۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر شرپسندوں نے سنگباری کا سلسلہ جاری رکھا اور مسجد پنجہ شاہ کے عقبی حصہ محلہ نعل صاحب میں مسجد پنجہ شاہ کے خادم و عارضی موذن شفیع الدین قریشی ( محی الدین ) کے مکان پر حملہ کرکے نقد رقم اور سونے کے زیورات لوٹتے ہوئے مکان کو آگ لگادی اور شفیع الدین قریشی کو شدید زخمی کردیاجنہیں بھینسہ گورنمنٹ ہاسپٹل میں طبی امداد کے بعد نظام آباد منتقل کردیا گیا جن کی حالت تشویشناک بتائی گئی ۔ بھینسہ میں رات بھر دہشت و خوف کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ صبح کی اولین ساعتوں میں اعلیٰ عہدیداران پولیس جن میں آئی جی ناگی ریڈی، آئی جی او انچارج ڈی آئی پرمود کمارکے علاوہ عادل آباد ایس پی ویشنو ایس واریار، کاماریڈی ایس پی شویتا ریڈی ،نرمل ایس پی ششی دھر راجو، منچرل ایس پی کے علاوہ اڈیشنل ایس پی راجیش بلا، وینکٹ ریڈی، سرینواس رائو، دکشنا مورتی اور ڈی ایس پیز کے علاوہ راما گنڈم کمشنر پولیس ستیہ نارائن اور نرمل کلکٹر پرشانتی ، جوائنٹ کلکٹر بھاسکر رائو، آرڈی او ای راجو، تحصیلدار نرسیا، تحصیلدار وینکٹ رامناکے علاوہ بلدیہ کمشنر محمد عبدالقدیرو دیگر نے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرکے واقفیت حاصل کی ۔ عہدیداران آئی ڈی گیسٹ ہائوز میں توقف کررہے تھے کہ شہر کے کوربا گلی میں ایک مسلم مکان کو آگ لگانے کی اطلاع سے شہر میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا اور سنگباری شروع ہوگئی۔ بعدازاں بھوئی گلی علاقہ میں ایم آئی ایم ٹائون صدر فیض اللہ خان کے مکان پر بھی شرپسندوں نے حملہ کرکے آگ لگانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مسلم
ذمہ داران کے ہمراہ پہنچ کر حالات کو قابو میں کرلیا ۔ بھینسہ میں دوپہر 2 بجے تک شرپسندوں نے دہشت و خوف کا ماحول برپا کرکے فرقہ پرستی کا ننگا ناچ کیا اور شہر کے شکیل گلی اور گجری گلی میں اقلیتی طبقہ کے مکانوں کو گھیرے میں لے کر سنگباری شروع کردی اور مسجد مشائخ میں نمازوں اور قرآن شریف کو آگ لگادیا جبکہ مسجد سے متصل مسلم مکان کو بھی نذرآتش کردیا۔ شکیل گلی میں موجود سرکاری مسجد سے متصل ایک مکان کو بھی آگ لگادی گئی۔ جبکہ اس واقعہ کے دوران پولیس کی جمعیت مسلم محلوں کی ناکہ بندی کرکے مسلم نوجوانوں کو قابو میں کرتی دیکھی گئی اور شہر کے ملا گلی، قاضی گلی میں بھی دو مکانات اور موٹر سیکلوں کے علاوہ مسلم کرانہ دکان کو نذرآتش کردیا گیا۔ پولیس نے کافی جدوجہد کے بعد آنسو گیس کے شل برساتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا ۔ بھینسہ میں فرقہ وارانہ واقعہ میں تقریباً15 سے زائد مکانات، 25 سے زائد موٹر سیکلیں، ایک کار، دو آٹو رکشا کونذرآتش کرنے کی اطلاع ہے ۔ جبکہ اس واقعہ میں 11 سے زائد افراد بھی زخمی ہوگئے۔ بھینسہ میں حالات کو قابو میں کرنے پولیس حکام کیمپ کرکے 500 سے زائد پولیس جمعیت کے علاوہ وجرا گاڑیوں کو تعینات کیا اور دفعہ 144 نافذکردیا گیا۔ اس واقعہ میں شہر کے مسلمانوں کا کافی مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ بھینسہ ڈی ایس پی نرسنگ رائو نے بتایا کہ مزید 200 آراے ایف فورس کو تعینات کیا گیا ہے ۔ جبکہ شام 7 بجے سے صبح 7بجے تک کرفیو نافذ کردیا گیا ۔ واقعہ کے بعد بھینسہ کے علاوہ متحدہ عادل آباد کے چار اضلاع عادل آباد، نرمل ، منچریال اورکمربھیم (آصف آباد) میں انٹرنیٹ سرویس معطل کردی گئی ۔ پولیس سے دونوں طبقوں کے افراد کو گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن منتقل کیا جارہا ہے اور حالات کو قابو میں کرنے پولیس مصروف دیکھی جارہی ہے۔ آخری اطلاعات ملنے تک کشیدگی برقرار تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT