بہادر پورہ برج کی تعمیر میں تاخیرعوام کیلئے سنگین مسائل کا سبب

   

برج کی دونوں جانب تالاب کا منظر، سڑکوں پر گڑھے، حادثات میں اضافہ
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں بارش کا ہونا عوام کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ بارش موسلادھار ہو یا ہلکی پہلا نشانہ سڑکیں بنتی ہیں کیونکہ حکام انتہائی ناقص سڑکوں کی تعمیر کے ذریعہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل تصور کرتے ہیں۔ پرانے شہر کے بہادر پورہ علاقہ میں روڈ اوور برج کی تعمیر کا کام گزشتہ تقریباً ایک سال سے سست روی کا شکار ہے اور وقفہ وقفہ سے عہدیدار برج کی عاجلانہ تکمیل کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ مصروف ترین اوقات میں پرانا پل تا نہرو زوالوجیکل پارک دونوں جانب ٹریفک گھنٹوں جام رہتی ہے کیونکہ برج کی تعمیر کے نتیجہ میں گاڑیوں کو گذرنے کا راستہ انتہائی تنگ ہوچکا ہے۔ اس تنگ راستہ سے آر ٹی سی بسوں اور لاریوں کی آمدورفت نے صورتحال کو مزید ابتر بنادیا ہے۔ کم سے کم حکام اگر آر ٹی سی بسوں اور لاریوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کریں تو ممکن ہے کہ دیگر گاڑیوں کو گذرنے میں سہولت ہوگی۔ گزشتہ چند دنوں سے بارش کے نتیجہ میں یہ مصروف ترین سڑک بری طرح تباہ ہوچکی ہے۔ سڑکوں پر جابجا گڑھے حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ بارش کے نتیجہ میں گڑھوں میں پانی جمع رہتا ہے اور ٹو وہیلر گاڑیاں ان گڑھوں کے نتیجہ میں حادثات کا شکار ہورہی ہیں۔ مقامی عوام اور اطراف واکناف کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کو برج کی عاجلانہ تکمیل اور سڑک کی تعمیر و مرمت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے بہادر پورہ میں سڑک کی دونوں جانب پانی تالاب کا منظر پیش کررہا ہے اور پیدل راہگیروں کیلئے تو گذرنا ممکن نہیں ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ بلدی حکام اور مقامی عوامی نمائندوں کو سڑکوں کی تعمیر کے سلسلہ میں بارہا نمائندگی کی گئی لیکن اس مسئلہ کو مسلسل ٹالا جارہا ہے۔ بارش کے آغاز نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس علاقہ میں مقامی جماعت کے ایک رکن اسمبلی کی قیامگاہ موجود ہے باوجود اس کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں حالانکہ رکن اسمبلی روزانہ اسی راستہ سے گذرتے ہیں۔R