پٹنہ: بہار میں ذات پات کی مردم شماری کی رپورٹ (بہار کاسٹ سروے) جاری ہونے کے بعد ریزرویشن کا دائرہ بڑھانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ نتیش کمار حکومت نے اسمبلی میں ریزرویشن (کوٹہ) کا دائرہ 50 فیصد سے بڑھا کر 65 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نتیش کمار حکومت نے او بی سی اور ای بی سی زمروں کے لیے یہ تجویز پیش کی ہے۔اس تجویز کے مطابق درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے لیے فی الحال 16 فیصد ریزرویشن کو بڑھا کر 20 فیصد کردیا جائے گا۔ شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کو 1 فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد کیا جائے گا۔ انتہائی پسماندہ طبقے (ای بی سی) اور دیگر پسماندہ طبقے (اوبی سی) کو ایک ساتھ 43 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔پہلے خواتین کے لیے 3 فیصد ریزرویشن کا انتظام تھا جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔ ملک کا پہلا برادری اقتصادی سروے منگل کو بہار اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طبقے اور کس ذات میں کتنی غربت ہے۔رپورٹ کے مطابق بہار میں 33.16 فیصد غریب خاندان ہیں، 25.09 فیصد عام زمرے میں، 33.58 فیصد انتہائی پسماندہ طبقے میں، 42.93 فیصد ایس سی اور 42.7 فیصد ایس ٹی میں ہیں۔ بہار حکومت نے جن ذاتوں کو اعلیٰ ذاتوں میں شامل کیا ہے، ان میں ہندو اور مسلم مذاہب کی 7 ذاتیں ہیں۔ عام زمرے میں، بھومیہار سب سے زیادہ غریب ہیں جو 25.32 فیصد ہیں۔غریب آبادی کے 13.83فیصد کے ساتھ کائستھ سب سے زیادہ خوشحال ہیں۔ جبکہ یادو ذات کے لوگ پسماندہ طبقات میں سب سے غریب ہیں۔ ذات پات کی مردم شماری کے اعداد و شمار 2 اکتوبر کو جاری کیے گئے تھے۔ نتیش کمار نے 2 اکتوبر کو ذات پات کی مردم شماری کے اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ اس کے ایک دن بعد سی ایم نتیش کمار کی صدارت میں آل پارٹی میٹنگ ہوئی۔
اس میں اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ آر جے ڈی، جے ڈی یو، کانگریس اور تینوں لیفٹ پارٹیوں نے سروے کی بنیاد پر ریزرویشن کا دائرہ بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔
منگل کو بہار اسمبلی کی کاروائی شروع ہوتے ہی بی جے پی نے ہنگامہ شروع کر دیا۔بی جے پی کے ایم ایل اے نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ بی جے پی ایم ایل اے آنگن واڑی کارکنوں کے احتجاج پر حکومت کو گھیر رہے تھے۔
