بہار میں 2005 سے پہلے اور بعد کے کاموں کی تفصیلات بتانے کا مطالبہ

   

لالو پرساد اور رابڑی دیوی کے دور کی اسکیمات سے عوام کو واقف کرانے پر زور، آر جے ڈی ترجمان کا بیان

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ترجمان چترنجن گگن نے حکومت کے 2005 سے پہلے اور اس کے بعد کیے گئے کاموں کی تفصیلات دینے کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ حکومت تقابلی تفصیلات دینے میں ایمانداری سے کام کرے گی اور جو کچھ بھی بتایا جائے وہ حقائق اور صداقت پر مبنی ہونا چاہئے ۔ چترنجن گگن نے جمعرات کے روز کہا کہ ایمانداری سے تقابلی تفصیلات دینے سے بہار کے لوگوں کو پتہ چل سکے گا کہ کون جھوٹ بول رہا ہے اور کون سچ بول رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) صرف دھوکہ دہی اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر آر جے ڈی کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرکے عوام کو گمراہ کرتا رہا ہے اور فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ آر جے ڈی کے ترجمان نے کہا کہ ریاستی حکومت کو بتانا چاہئے کہ 1990 اور 2005 کے درمیان تمام اسکیموں سمیت بہار کو مرکز سے کتنی مالی امداد ملی۔ بالخصوص 1998 سے 2004 تک جب مرکز میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار مرکز میں وزیر تھے تو مرکز سے بہار کو کتنی مالی امداد دی گئی۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ 2000 تک جھارکھنڈ بھی بہار کا حصہ تھا۔ اسی طرح ریاستی حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ بہار کو 2005 سے 2014 تک مختلف اسکیموں کے تحت مرکز سے کتنی رقم ملی اور 2014 سے اب تک کتنی رقم ملی۔ لالو پرساد نے مرکزی وزیر کے طور پر بہار میں کتنی فیکٹریاں لگائیں؟ چترنجن گگن نے کہا کہ حکومت کو اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتانا چاہئے کہ 1990 میں جب لالو پرساد وزیر اعلیٰ بنے تھے تو بہار پر کتنا قرض تھا اور جب رابڑی دیوی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوئیں تو ریاستی حکومت کے خزانے میں کتنی اضافی رقم تھی اور آج بہار پر کتنا قرض ہے ۔ آر جے ڈی کے ترجمان نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اپنی تفصیلات میں یہ بھی بتانا چاہیے کہ 1990 سے 2005 کے درمیان کتنے اضلاع، سب ڈویژن، حلقے ، تھانے اور بلاکس بنائے گئے اور 2005 کے بعد اب تک کتنے اضلاع، سب ڈویژن، حلقے ، تھانے اور بلاکس بنائے گئے ہیں۔ حکومت کو اپنی تفصیلات میں یہ بھی بتانا چاہیے کہ بی این منڈل یونیورسٹی مدھے پورہ، جئے پرکاش یونیورسٹی چھپرہ، ویر کنور سنگھ یونیورسٹی آرہ، ایم این ایچ عربی فارسی یونیورسٹی، ونوبا بھاوے یونیورسٹی ہزاری باغ (جھارکھنڈ) سدھو کانہو یونیورسٹی دمکا (جھارکھنڈ) کس کی حکومت میں کھولی گئی۔ چترنجن نے کہا کہ حکومت کو اپنی رپورٹوں میں یہ بھی بتانا چاہئے کہ پنچایتی انتخابات کس نے کروائے جو برسوں سے زیر التوا تھے اور کس نے پنچایتی راج کے اداروں میں خواتین کو ریزرویشن دیا تھا۔ بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کس کی حکومت میں شروع ہوئی؟
اور چار لاکھ باون ہزار ریگولر اساتذہ کے علاوہ ایک لاکھ گیارہ ہزار شکشا متروں کو کس نے بھرتی کیا؟ کس کی حکومت میں 1993 تک تمام ایم بی بی ایس ڈگری ہولڈرز، ڈاکٹرز اور انجینئرنگ کی ڈگری اور ڈپلومہ ہولڈرز کو ایک ہی مرتبہ بحال کر دیا گیا؟ حکومت کو لالو اور رابڑی جی کے دور حکومت میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بڑے پیمانے پر اساتذہ، سب انسپکٹرز اور کانسٹیبلوں کی باقاعدہ بھرتی کی تفصیلات بھی سامنے رکھنی چاہئیں۔