بیت المقدس میں دوبارہ کشیدگی، جھڑپوں میں مزید 53 افراد زخمی

,

   

مسجداقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کا فلسطینیوں پر تشدد،امریکہ کاکشیدگی کے خاتمے پرزور

یروشلم :مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مزید 53 افراد زخمی ہوئے ہیں۔بیت المقدس میں ایک مقامی طبی کارکن نے بتایا کہ القدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد کے اسرائیلی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔ہلال احمر فلسطین کے مطابق تازہ جھڑپوں میں القدس اور اس کے اطراف میں 53 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 8 کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوںپر آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال کیا گیا۔فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی شام پرانے بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ الشیخ جراح، باب العامود اور باب الزاھرہ کے مقامات پر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔درایں اثنا یورپی یونین نے ہفتے کے روز اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ القدس میں فلسطینیوں پرحملوں کا سلسلہ بند کرے اور پولیس کو تشدد سے روکے۔دریں اثناء امریکہ نے اسرائیل کے مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر صہیونی پولیس کی فائرنگ کے واقعات کے بعد کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ فلسطینی خاندانوں کی ان کے مکانوں سے بزور طاقت بے دخلی سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکا کو یروشلیم میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش لاحق ہے۔اس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’تشدد کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا لیکن رمضان کے آخری ایام میں اس طرح کی خون ریزی بہت ہی پریشان کن ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیلی اور فلسطینی حکام پر کشیدگی اور تشدد کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن انداز میں اقدام کرنے پر زوردے رہا ہے۔ترجمان نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے صورت حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔انھوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشرقی یروشلم سے لوگوں کو زبردستی گھروں سے نکالنے ، یہود آبادکاری کی سرگرمی ، مکانوں کی مسماری اوردہشت گردی کی کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔‘‘محکمہ خارجہ نے قبل ازیں ایک اور بیان میں کہا تھا کہ امریکا کومشرقی القدس کے دوعلاقوں سلوان اور شیخ جراح سے فلسطینی خاندانوں کی جبری بے دخلی پر تشویش لاحق ہے۔