حیدرآباد۔13۔ مئی ۔(سیاست نیوز) ریاست کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی مسلمانوں کے ووٹ کے تقسیم نہ ہونے کا نتیجہ ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کا صفایا پارٹی انہوں نے کیا ہے۔ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست پر سرکردہ مسلمانوں نے صدر مجلس کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی بردباری اور فراست کے سبب کرناٹک سے بی جے پی حکومت کا صفایا ممکن ہوپایا ہے ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے متحدہ طور پر اپنے حق رائے دہی کا کانگریس کے حق میں استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی شعور کا ثبوت دیا ۔ کرناٹک میں 13 فیصد مسلم رائے دہندوں میں90 فیصد مسلمانوں نے کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور ووٹوں کو تقسیم ہونے نہیں دیا ۔بیرسٹراسد الدین اویسی نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں 25نشستوں پر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد اچانک اپنے فیصلہ میں تبدیلی لاتے ہوئے انہو ںنے محض 2 امیدوار میدان میں اتارے جن میں ہبلی دھارواڑ سے غیر مسلم امیدوار اور باسانہ واڑی سے ایک مسلم امیدوار کو میدان میں اتارا تھا لیکن ان دونوں امیدواروں کے لئے انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے جلسہ عام منعقد کرنے کے علاوہ پیدل دورے کئے تھے ۔بعدازاں وہ کرناٹک سے سیدھے اترپردیش کے لئے روانہ ہوگئے تھے جہاں مجلس اتحاد المسلمین نے بلدیاتی انتخابات میں پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ حیدرآباد‘ کرناٹک کے علاقوں کے علاوہ کرناٹک کے بعض دیگر مقامات پر انتخابات سے قبل مجلس کے متعلق جوش و خروش دیکھا جارہا تھا لیکن 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات کی طرح صدر مجلس نے کرناٹک میں کوئی امیدوار میدان میں نہ اتارنے کا لمحہ آخر میں فیصلہ کیا لیکن سال 2018میں مجلس نے جنتادل(سیکولر) کی تائید کا اعلان کیا تھا اور اس مرتبہ صدر مجلس نے ابتداء میں تین امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی لیکن ان میں بھی محض دو امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے بعدکانگریس کے حق میں لہر کو دیکھتے ہوئے کوئی اور امیدوار نہیں اتارے ۔کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم کے اختتام کے بعد انہوں نے اترپردیش پہنچتے ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’’سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا‘‘ ۔ اب کرناٹک کے نتائج کے اثرات تلنگانہ پر بھی مرتب ہونے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔