بیٹے کے ہاتھو ں ماں کی ہلاکت مصنوعی ذہانت سے پہلا قتل

   

نیویارک : 31 اگست ( ایجنسیز ) امریکہ میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں مصنوعی ذہانت(AI) کے معاون چیٹ ی پی ٹی کی بات مان کر ایک شخص نے اپنی ماں کو قتل کردیا ۔ اسے مصنوعی ذہانت سے متعلق پہلا قتل سمجھا جارہا ہے ۔ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والا 56 سالہ اسٹین ایرک سولبرگ جو ماضی میں یاہو کمپنی میں منیجر کے طور پر کام کرچکا تھا چیاٹ جی پی ٹی پر حد سے زیادہ یقین کرنے لگا اور اسے حقیقت سمجھنے کی حالت تک پہنچ گیا ۔ چیاٹ جی پی ٹی نے اسٹین کو بتایا کہ اس پر قاتلانہ حملے ہوسکتے ہیں ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ پاگل نہیں ہے بلکہ اس کی ماں اس کی جاسوسی کررہی ہے اور اسے دی جانے والی ذہنی صحت کی ادویات میں زہر ملاسکتی ہے ۔ حقیقت میں اسٹین کئی سالوں سے شدید ذہنی مسائل کا شکار تھا اور اسی وجہ سے وہ اپنی ماں کے گھر میں رہ رہا تھا ۔ 5 اگست کو اسی گھر میں ماں بیٹے کو شدید زخموں کے ساتھ مردہ پایا گیا ۔ ایڈمز کے سر اور گردن پر گہرے زخم تھے جبکہ چیف میڈیکل ایگزامینر نے تصدیق کی کہ اسٹین نے تیز دھار آلے سے خود کو کاٹ کر خودکشی کی ۔ خودکشی سے پہلے اس نے اپنی ماں کا قتل کردیا تھا ۔