اسد اویسی ۔ امیت شاہ جوڑی ، مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کی سازش، بی جے پی اور مجلس سے مفاہمت خارج از بحث
کے سی آر کے خلاف کاماریڈی سے مقابلہ کیلئے تیارہوں
حیدرآباد ۔26۔اکتوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کو چڈی گیانگ سے تعبیر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے تینوں متحدہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تینوں پارٹیوں پر مشتمل چڈی گیانگ تلنگانہ کو لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بظاہر یہ تینوں علحدہ دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقت میں متحد ہیں۔ جس طرح ہاتھی کے دانت کھانے کے کچھ اور دکھانے کے کچھ اور ہوتے ہیں اسی طرح بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کرناٹک میں جنتادل سیکولر نے کانگریس کو نقصان پہنچانے کیلئے بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کیا تھا ، اسی طرح مخالف حکومت ووٹ تلنگانہ میں تقسیم کرنے کیلئے بی جے پی اور مجلس متحرک ہوچکی ہیں۔ بظاہر تینوں پارٹیاں علحدہ طور پر مقابلہ کر رہی ہیں لیکن آئندہ لوک سبھا الیکشن کیلئے مفاہمت ہوچکی ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس 9 ، بی جے پی 7 اور مجلس ایک نشست پر مقابلہ کرے گی۔ جنوری یا فروری میں تینوں پارٹیوں میں اتحاد واضح ہوجائے گا۔ تلنگانہ میں معلق اسمبلی کی تشکیل کے امکانات کو خارج کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلگو ریاستوں میں گزشتہ 40 برسوں کے دوران کبھی بھی معلق اسمبلی تشکیل نہیں پائی ۔ 1983 ء سے 2023 ء تک ہر الیکشن میں عوام نے واضح طور پر فیصلہ سنایا۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس پارٹی دو تہائی اکثریت کے ساتھ تلنگانہ میں حکومت تشکیل دے گی۔ تلنگانہ میں بی جے پی اور مجلس کے ساتھ کانگریس کی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی اپنے بڑے بھائی امیت بھائی کو چھوڑ کر کانگریس کے ساتھ نہیں آئیں گے ۔ یہ دونوں ڈبل انجن کی طرح ہیں اور جس طرح اڈانی اور مودی کی جوڑی ہے ، اسی طرح اسد اور امیت شاہ کی جوڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت کی تشکیل کے بارے میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور 9 ڈسمبر کو لال بہادر اسٹیڈیم میں تقریب حلف برداری منعقد ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر پارٹی ہدایت دے تو وہ کے سی آر کے خلاف کاما ریڈی اور بھٹی وکرمارکا سرسلہ سے کے ٹی آر کے خلاف مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے 2009 ء میں محبوب نگر لوک سبھا حلقہ سے کامیابی حاصل کی لیکن ضلع کی ترقی کو نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ کوڑنگل سے مقابلہ کریں کیونکہ یہ حلقہ لوک سبھا محبوب نگر کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اجازت دے تو وہ کاما ریڈی سے کے سی آر کو شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں کے سی آر کا اعتماد ختم ہوچکا ہے کیونکہ گزشتہ 10 برسوں میں 22 لاکھ 75 ہزار کروڑ کے مجموعی بجٹ میں فلاحی اسکیمات کو فراموش کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کیلئے جن 6 ضمانتوں کا اعلان کیا ہے ، عوام مطمئن ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بائیں بازو جماعتوں سے نشستوں پر مفاہمت کیلئے بات چیت جاری ہے ۔ کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی کی کانگریس میں واپسی سے متعلق سوال پر ریونت ریڈی نے کہا کہ وشویشور ریڈی ، جی ویویک ، وجئے شانتی ، ڈی کے ارونا اور جتیندر ریڈی نے بی جے پی کے نظریات کے بجائے اس امید سے شمولیت اختیار کی تھی کہ مرکزی حکومت کے سی آر کے کرپشن کے خلاف کارروائی کرے گی ، ان قائدین کو بی جے پی سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ واپس لوٹ آئے ہیں۔