بی آر ایس ارکان آٹو ڈرائیورس کے یونیفارم میں اسمبلی پہنچے

   

آٹو ڈرائیورس کو 10 سال تک نظر انداز کرنے کا بی آر ایس پر الزام : سریدھر بابو اور سیتکا

حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج بی آر ایس ارکان نے آٹو ڈرائیورس کا شرٹ پہن کر اجلاس میں شرکت کی۔ اسمبلی کی کارروائی کے آغاز پر بی آر ایس ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے۔ وہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کی جانب سے انتخابی منشور میں آٹو ڈرائیورس کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ کررہے تھے۔ کے ٹی آر، ہریش راؤ اور دیگر ارکان نے آٹو ڈرائیورس کا شرٹ پہن رکھا تھا جبکہ ٹی سرینواس یادو اپنے روایتی سفید شرٹ میں اسمبلی پہنچے۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز پر بی آر ایس ارکان نے اسپیکر کی توجہ آٹو ڈرائیورس کے مسائل کی جانب مبذول کرائی اور اسمبلی انتخابات میں کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے روزانہ ایک لباس میں ایوان پہنچنے کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ کل سیاہ رنگ کے شرٹ کے ساتھ ایپا سوامی کے لباس میں بی آر ایس ارکان دکھائی دیئے اور دیگر ارکان نے ان کی عزت اور توقیر کی۔ سریدھر بابو نے کہا کہ آج آٹو ڈرائیورس کے یونیفارم میں پہنچ کر آٹو ڈرائیورس کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے اقتدار اور اپوزیشن میں دو علحدہ رنگ ہیں۔ اقتدار میں انہوں نے جو کچھ کیا آج اپوزیشن میں اس کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ سریدھر بابو نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں آٹو ڈرائیورس کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دس سالہ اقتدار میں آٹو ڈرائیورس کی بھلائی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ بی آر ایس حکومت نے خانگی کمپنیوں کی خدمات کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجہ میں آٹو ڈرائیورس کو نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اقتدار کو محض ایک سال مکمل ہوا اور کمزور معاشی صورتحال کے باوجود 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ آٹو ڈرائیورس کے ساتھ کئے گئے وعدہ کی تکمیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں آٹو رکشاء کے ٹیکس میں اضافہ کیا گیا لیکن آج آٹو ڈرائیورس کی ہمدردی کی جارہی ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت تمام طبقات سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ ہے۔ وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا نے کہا کہ دس سالہ اقتدار میں آٹو ڈرائیورس کی بھلائی کو بی آر ایس نے نظرانداز کردیا تھا۔ اولا، اوبیر اور دیگر سرویسس کی حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں آٹو ڈرائیورس کو نقصان ہوا ہے۔ سیتکا نے کہا کہ آٹو ڈرائیورس کو نقصان پہنچانے والے آج ان سے جھوٹی ہمدردی کررہے ہیں۔1