برسر اقتدار پارٹی کو بیالٹ پرکار کی طرز کے نشان سے پریشانی کے بعد اب ٹی آر ایس سے نئی پریشانی
حیدرآباد۔ 15 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ریاست میں بھارت راشٹرا سمیتی اور تلنگانہ راجیہ سمیتی کے امیدواروں کے درمیان اُلجھن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ بی آر ایس جوکہ بیالٹ پر کار کی طرح نظر آنے والے امتیازی نشانات سے پریشان تھی، اسے اب ٹی آر ایس امیدواروں سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو بھارت راشٹرا سمیتی میں تبدیل کئے جانے کے بعد تلنگانہ ریاستی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ کروائی جانے والی تلنگانہ راجیہ سمیتی نے بھی ریاست کے کئی حلقہ جاتی اسمبلی میں اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعدد حلقوں سے پرچہ نامزدگی داخل کروا دیا ہے۔ ریاست کے اسمبلی انتخابات میں اب بی آر ایس اور ٹی آر ایس دونوں سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہوں گے اور ٹی آر ایس کے جو امیدوار ہیں، دراصل تلنگانہ راجیہ سمیتی کے امیدوار ہیں، لیکن اُن کی جانب سے پارٹی کے مکمل نام کے بجائے مخفف ٹی آر ایس استعمال کئے جانے کا امکان ہے۔ بی آر ایس پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی طرح نظر آنے والے نام سے انہیں اس قدر نقصان نہیں ہوگا جتنا نقصان کار کے مماثل انتخابی نشانات سے ہونے کا خدشہ ہے، اسی لئے بھارت راشٹرا سمیتی نے تلنگانہ راجیہ سمیتی پر کوئی شدید اعتراض نہیں کیا ہے جبکہ بی آر ایس کی جانب سے متعدد مرتبہ کار کے مماثل انتخابی نشانات کو حذف کرنے کیلئے نمائندگی کی جاچکی ہے، لیکن اس کے باوجود بیالٹ میں کار کی طرح نظر آنے والے انتخابی نشانات روڈ رولر اور گردا بیلن موجود ہیں جوکہ پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہونے کا اندیشہ ہے۔