بی آر ایس میں موجود کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی گھر واپسی کیلئے کوشاں

   

کانگریس قائدین سے رابطہ، کرناٹک انتخابی نتائج کا اثر، چیف منسٹر کے سی آر کو دھکہ!
حیدرآباد۔7۔جون۔(سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو جلد ہی کانگریس پارٹی بہت بڑا جھٹکہ دینے کی تیاری کر رہی ہے اور بی آرایس میں موجود 12 ارکان اسمبلی جو کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اپنی گھر واپسی کا ماحول تیار کرر ہے ہیں۔کانگریس کے ٹکٹ پر 2018میں منتخب ہونے کے بعد بھارت راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے 12 ارکان اسمبلی نے کانگریس قائدین سے رابطہ میں آتے ہوئے اپنی گھر واپسی کے لئے ماحول کی تیاری شروع کردی ہے اور کہا جارہاہے کہ ان ارکان اسمبلی نے جو کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرچکے تھے وہ اب واپس کانگریس میں آنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ذرائع کے مطابق کرناٹک اسمبلی کے نتائج بالخصوص کانگریس کو حاصل ہونے والی بھاری عوامی تائید کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بی آر ایس میں موجود ان ارکان اسمبلی نے کانگریس کے سینیئر قائدین بالخصوص ہائی کمان میں تلنگانہ امور کے نگران قائدین سے رابطہ شروع کردیا ہے اور جلد ہی وہ اپنے فیصلہ کا اعلان کرسکتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بی آرا یس میں شامل ہونے والے ان 12ارکان اسمبلی کی دوبارہ کانگریس میں واپسی کے سلسلہ میں ان ارکان اسمبلی کا کہناہے کہ 2018 انتخابات کے بعد ان ارکان اسمبلی نے تلنگانہ کی ترقی اور تلنگانہ عوام کے فائدہ کے لئے اس وقت کی تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کو بھارت راشٹرسمیتی میں تبدیل کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ تلنگانہ کی ترقی کے لئے کام نہیں کر رہے ہیں بلکہ ملک بھر میں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کی کوشش میں مصروف ہیں۔کانگریس میں واپسی پر غور کرنے والے ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ تلنگانہ جذبات کے نام پر عوام کا استحصال کرنے والے چیف منسٹر اقتدار حاصل کرنے کے بعد آندھرائی قائدین اور ان کے مفادات کے تحفظ کے اقدامات میں مصروف رہے اور اب بھی وہ تلنگانہ کے وسائل کے ذریعہ آندھرائی تاجرین کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔م