حیدرآباد ۔ 2 اکٹوبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے حدود میں حکمران جماعت بی آر ایس کیلئے آئندہ منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں 2018ء کے اسمبلی انتخابات کے نتائج جیسے نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا کیونکہ بی آر ایس کو کئی مسائل کا سامنا ہے جیسے پارٹی قائدین کا دوسری پارٹیوں میں شامل ہونا، اندرونی اختلافات اور عوام کی ناراضگی۔ جی ایچ ایم سی کے تحت 24 اسمبلی حلقہ جات ہیں۔ ان میں زیادہ تر کی نمائندگی بی آر ایس کرتی ہے۔ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد میں چھ حلقوں کی نمائندگی بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کرتے ہیں، ملکاجگری لوک سبھا حلقہ میں تمام سات اسمبلی حلقہ جات اور چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ میں چار اسمبلی حلقہ جات کی نمائندگی بی آر ایس کے ا رکان کرتے ہیں۔ 2014ء کے انتخابات میں بی آر ایس کے پاس صرف دو نشستیں تھیں، بشمول سکندرآباد اور ملکاجگری تاہم 2018ء کے اسمبلی انتخابات کے بعد بڑی تبدیلی آئی۔ پارٹی کو بلدی انتخابات کے دوران دھکہ لگا تھا، 56 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ کارپوریشن پر دعویداری کیلئے اسے ایم آئی ایم کی مدد لینی پڑی تھی۔ بعد میں بی جے پی کے چار کارپوریٹرس پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ حال میں ملکاجگری کے ایک سینئر قائد ایم ہنمنت راؤ نے پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ حلقہ اپل میں پارٹی نے امیدوار بی سبھاش ریڈی کو بدل کر بی لکشماریڈی کو ٹکٹ دیا۔ اسی طرح خیریت آباد میں پارٹی کی کارپوریٹر پی وجیہ ریڈی نے بھی استعفیٰ دیکر کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ایک اور فکرمندی کی بات ہیکہ کئی حلقوں میں پارٹی امیدواروں نے دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں بعض کو ناراضگیوں کا سامنا ہے۔ امیدواروں کے اعلان پر ٹکٹ کے خواہشمند دوسرے قائدین میں ناراضگی ہے۔ عنبرپیٹ، مہیشورم، ایل بی نگر، جوبلی ہلز، پٹن چیرو جیسے حلقوں میں ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین کے درمیان کشمکش فکرمندی کی بات ہے۔ مبصرین کا کہنا ہیکہ کئی قائدین نے 2018ء میں پارٹی کی لہر سے کامیابی حاصل کی تھی۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کیلئے کوئی اپوزیشن نہیں تھی، لیکن اس مرتبہ کانگریس مضبوط ہورہی ہے اور بی جے پی بھی اس کے کارپوریٹرس کے ساتھ ایک طاقت دکھائی دیتی ہے۔