بی آر ایس کے باغی رکن اسمبلی ہنمنت راؤ کی کل کانگریس میں شمولیت

   

پارٹی لیڈر سونیا گاندھی سے ملاقات کا منصوبہ، ہائی کمان سے 3 اسمبلی نشستوں کی درخواست
حیدرآباد 25 ستمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس سے مستعفی ملکاجگیری رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ کی کانگریس میں شمولیت یقینی ہوچکی ہے۔ ہنمنت راؤ نے استعفے کا اعلان کرکے دوبارہ ملکاجگیری حلقہ سے مقابلہ کا اعلان کیا تھا۔ میدک اسمبلی حلقہ سے بی آر ایس سے فرزند کو ٹکٹ نہ دیئے جانے پر ناراض ہنمنت راؤ گزشتہ چند دنوں سے کانگریس قائدین سے ربط میں تھے اور آج کانگریس کے سینئر قائدین نے ہنمنت راؤ سے اُن کی قیامگاہ پر ملاقات کی۔ ہنمنت راؤ نے اعلان کیاکہ وہ 27 ستمبر کو نئی دہلی میں سونیا گاندھی کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا، سابق ایم پی انجن کمار یادو اور میڑچل ملکاجگیری کانگریس صدر این سریدھر اور دوسروں نے ہنمنت راؤ سے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ ہنمنت راؤ کی شمولیت کی راہ ہموار کرنے کانگریس سینئر قائدین نے صدر ضلع کانگریس سریدھر سے ملاقات کی جو ملکاجگیری اسمبلی حلقہ کے ٹکٹ کے اہم دعویدار ہیں۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، ورکنگ صدر مہیش کمار گوڑ، ڈاکٹر ملو روی اور دوسروں نے اِس ملاقات میں این سریدھر کو ملکاجگیری حلقہ سے دعویداری ترک کرنے کی ترغیب دی۔ بعد میں سینئر قائدین نے ہنمنت راؤ کی قیامگاہ پہونچ کر ملاقات کی اور ناشتہ پر بات کی گئی۔ ملاقات کے بعد ہنمنت راؤ نے اعلان کیاکہ وہ 27 ستمبر کو کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ دہلی میں سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد باقاعدہ شمولیت اختیار کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ ہائی کمان سے 3 اسمبلی نشستوں کی خواہش کریں گے۔ ملکاجگیری سے اُنھیں، میدک سے فرزند اور میڑچل سے ایس پربھاکر گوڑ کو ٹکٹ کی درخواست کریں گے۔ کانگریس قائدین نے سروے کی بنیاد پر ٹکٹ کا تیقن دیا۔ ہنمنت راؤ نے کہاکہ کانگریس کی موجودہ لہر میں بی آر ایس کے کئی اہم قائدین شکست سے دوچار ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ تلنگانہ میں کانگریس کے استحکام کیلئے کام کریں گے۔ ہنمنت راؤ نے یقین ظاہر کیاکہ آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی اور بی آر ایس کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سوال پر ہنمنت راؤ نے کہاکہ ہائی کمان اگر اُن کے فرزند روہت راؤ اور میڑچل سے ایم پربھاکر پر منفی فیصلہ کرتا ہے تب بھی قبول کرینگے۔ ہنمنت راؤ نے کہاکہ کانگریس کی کامیابی اوّلین ترجیح ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر نے علیحدہ تلنگانہ جدوجہد میں عوام سے کئے وعدوں سے انحراف کرلیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں عوام کے سی آر حکومت سے ناراض ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ کانگریس قائدین اور کارکنوں کو متحد رکھنے کام کریں گے۔