بی جے پی صدربنڈی سنجے کو فوری رہا کرنے تلنگانہ ہائیکورٹ کی ہدایت

   

الزامات کے حق میں ثبوت موجود نہیں ، پولیس کے رویہ پر ناراضگی، ریمانڈ رپورٹ پر حکم التواء
حیدرآباد۔5۔ جنوری (سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے راحت ملی۔ ہائی کورٹ نے بنڈی سنجے کی عدالتی تحویل سے متعلق ریمانڈ رپورٹ پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بنڈی سنجے کی جانب سے کل ہائی کورٹ میں لنچ موشن پر درخواست داخل کی گئی تھی لیکن جسٹس لکشمن نے یہ کہتے ہوئے سماعت سے انکار کردیا تھا کہ بنڈی سنجے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور عوامی نمائندوں کے مقدمات کی سماعت کیلئے علحدہ بنچ موجود ہے۔ بنڈی سنجے کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ڈی پرکاش ریڈی نے آج عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے جو الزامات عائد کئے گئے ہیں، ان کے بارے میں ریمانڈ رپورٹ میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ۔ عدالت نے ڈائرکٹر جنرل جیل ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ شخصی مچلکہ اور 40 ہزار روپئے کی ضمانت پر بنڈی سنجے کو رہا کردیا جائے۔ عدالت نے ریمانڈ رپورٹ پر حکم التواء کے علاوہ بنڈی سنجے کو ضمانت منظور کرتے ہوئے عبوری احکامات جاری کئے ۔ سینئر کونسل ڈی پرکاش ریڈی نے کہا کہ پولیس کی جانب سے داخل کردہ ریمانڈ رپورٹ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ عدالت کا احساس تھا کہ پولیس میں کووڈ قواعد کی خلاف ورزی اور پولیس عہدیداروں پر حملہ کرنے کے الزامات کے تحت ریمانڈ رپورٹ داخل کی لیکن دونوں الزامات کے بارے میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ پرکاش ریڈی نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر بنڈی سنجے کو بے بنیاد الزامات کے تحت جیل بھیج دیا ہے۔ پرکاش ریڈی نے کہا کہ 14 دن کی ریمانڈ غیر قانونی ہے ۔ پرکاش ریڈی کی سماعت کے بعد عدالت کا احساس تھا کہ کووڈ قواعد کی خلاف ورزی کیلئے ریمانڈ کی سفارش کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ گرفتاری کے صرف 15 منٹ بعد ایف آئی آر کی اجرائی کس طرح عمل میں آئی ہے ۔ عدالت نے ایف آئی آر میں سیکشن 333 کو شامل کرنے کے بارے میں پولیس سے سوال کیا ۔ عدالت نے پولیس کے رویہ پر ناراضگی جتائی اور تلنگانہ حکومت کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ۔ عدالت نے کہا کہ 17 جنوری تک عدالتی تحویل کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ رہائی کے احکامات کی اجرائی کے بعد مقدمہ کی آئندہ سماعت 7 فروری کو مقررکی گئی ۔ واضح رہے کہ بنڈی سنجے نے سرکاری ملازمین کی تقسیم سے متعلق جی او 317 سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے کریم نگر میں ایک روزہ دکھشا کا اعلان کیا تھا ۔ پولیس نے بی جے پی دفتر کے دروازہ توڑ کر بنڈی سنجے کو گرفتار کیا اور دوسرے دن عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ڈسٹرکٹ کورٹ نے 14 دن کی ریمانڈ میں بھیج دیا ۔ گزشتہ دو دن سے حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں بی جے پی کی جانب سے احتجاج منظم کیا جارہا ہے ۔ ر