بی جے پی صدر بنڈی سنجے کی 9 اگسٹ سے پدیاترا کا آغاز

   

پرانے شہر سے حضور آباد تک پدیاترا، اسمبلی انتخابات تک مختلف مراحل میں پروگراموں کا منصوبہ

حیدرآباد۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کمار نے 9 اگسٹ سے ریاست میں اپنی پدیاترا کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ پرانے شہر میں چارمینار کے دامن میں واقع بھاگیہ لکشمی مندر سے پدیاترا کا آغاز ہوگا جو حضور آباد میں اختتام کو پہنچے گی۔ جمہوری تلنگانہ کی تشکیل کے عنوان سے یہ پدیاترا نکالی جائے گی۔ بی جے پی سینئر قائدین کا ورچول اجلاس منعقد ہوا جس میں پدیاترا کی کامیابی کیلئے حکمت عملی کو قطعیت دی گئی۔ بنڈی سنجے نے تلگو ریاستوں میں آبی تنازعہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ دونوں چیف منسٹرس منصوبہ بند طریقہ سے عوام کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے۔ حضورآباد کے ضمنی چناؤ میں سیاسی فائدہ کیلئے کے سی آر نے جگن سے میچ فکسنگ کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پانی کی مساوی تقسیم سے متعلق کے سی آر کا مکتوب محض دکھاوا ہے۔ کے سی آر کے رویہ کے نتیجہ میں تلنگانہ کو صرف 299 ٹی ایم سی پانی حاصل ہورہا ہے جبکہ اس کی حصہ داری 575 ٹی ایم سی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضورآباد میں کے سی آر بھلے ہی کئی کروڑ خرچ کریں لیکن کامیابی ایٹالہ راجندر کی ہوگی۔ سنجے نے کہا کہ حضورآباد میں بی جے پی کی کامیابی آسانی کے ساتھ ہوگی اور دوباک کے مظاہرہ کو دہرانے کیلئے بی جے پی کارکن پرجوش انداز میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دو انتخابات میں شکست سے بی جے پی کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مرکزی اسکیمات کو ہائیجک کرلیا ہے۔ حضورآباد میں دلتوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے چیف منسٹر نے دلت امپاورمنٹ پر کُل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا۔ کے سی آر کے دور میں دلت عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ دلت کو چیف منسٹر کا عہدہ، 3 ایکر اراضی اور 125 فٹ طویل امبیڈکر کا مجسمہ کہاں گیا۔ مرکز کی جانب سے فراہم کردہ 2500 کروڑ روپئے کہاں خرچ کئے گئے اس کا حساب حکومت کو پیش کرنا چاہیئے۔