بی جے پی فرقہ پرست اور ٹی آر ایس انسانیت پرست: کے پربھاکر

   

حیدرآباد میں امن و امان بی جے پی قائدین کو برداشت نہیں، سکیولرازم کا سرٹیفکیٹ ضروری نہیں
حیدرآباد۔ 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن کے بیان کی سخت مذمت کی جس میں انہوں نے ٹی آر ایس کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ ارکان مقننہ کے پربھاکر، گنگادھر گوڑ اور کے چندر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان کو ملک کا دشمن قراردینے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے اس ملک کا دورہ کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بی جے پی سے منسوب ہے۔ بی جے پی کی مقبولیت میں دن بہ دن کمی ہورہی ہے اور عوام حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں عوام کو گمراہ کرتے ہوئے بی جے پی نے چار نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔ آئندہ انتخابات میں ایک بھی نشست پر بی جے پی کی ضمانت نہیں بچے گی۔ کے پربھاکر نے کہا کہ ٹی آر ایس کا واحد ایجنڈا تلنگانہ کی ترقی ہے اور مرکز کے خلاف جدوجہد ریاست کی ترقی و بھلائی کے لیے ہے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے لیے وزیراعظم سے بارہا نمائندگی کی گئی۔ کالیشورم پراجیکٹ کو قومی پراجیکٹ کا درجہ دینے کا کئی مرتبہ مطالبہ کیا گیا۔ وزیر فینانس ہریش رائو نے کل وزرائے فینانس کے اجلاس میں تلنگانہ کے زیر التوا مسائل پر نمائندگی کی انہوں نے کہا کہ تلنگانہ بی جے پی قائدین ریاست کی ترقی کے بجائے دیگر مسائل پر بیان بازی کررہے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی کے لیے بی جے پی قائدین کو چاہئے کہ وہ مرکز پر دبائو بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی فرقہ پرست جماعت ہے جبکہ ٹی آر ایس انسانیت پرست جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیولرازم کے بارے میں ٹی آر ایس کو بی جے پی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو ایک طرف دشمن ملک قرار دیا جاتا ہے لیکن نریندر مودی، نواز شریف سے ملاقات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں امن و امان بی جے پی قائدین کو برداشت نہیں ہورہا ہے۔ سابق میں بی جے پی اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ حیدرآباد میں صورتحال کو بگاڑ چکی ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ ٹی آر ایس ایک سکیولر جماعت ہے اور تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کرتی ہے۔ کے سی آر انسانیت پرست قائد ہیں اور وہ بی جے پی کی طرح عوام میں تفرقے پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی انحطاط اور عوام کو درپیش مسائل کے لیے بی جے پی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسی ندی کی صفائی کے سلسلہ میں ٹی آر ایس حکومت سنجیدہ ہے۔ باپو گھاٹ سے موسی ندی کے اختتام تک صفائی کے کام کی نگرانی ریاستی وزیر کے ٹی آر کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس ارکان مقننہ نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرکز سے تلنگانہ کو فنڈس کی اجرائی کے لیے بی جے پی قائدین کو مساعی کرنی چاہئے۔