بی جے پی لیڈر پر حملہ : انسانی حقوق کمیشن نے از خود نوٹس لیا

   

ودیشا، 29 اکتوبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع میں جن سنگھ کے زمانے سے سیاست میں سرگرم اور موجودہ دور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما و وکیل ومل پرکاش تارن کے ساتھ سرِعام مارپیٹ کے معاملے میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے ازخود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے ودیشا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ ساتھ ہی ایس ڈی ایم، تھانہ انچارج سمیت معاملے سے وابستہ افراد سے بند کمرے میں ملاقات بھی کی ہے ۔ کمیشن نے دو ہفتوں کے اندر مفصل کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن کے رکن پریانک کانونگو نے کل اس معاملے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض عام مارپیٹ کا معاملہ نہیں لگتا۔ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت ویڈیو بنانا، سینئر رہنماؤں کے ساتھ مارپیٹ اور پولیس کا ملزم کو ریمانڈ پر لینے کے بجائے سیدھا جیل بھیج دینا کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے اور جانچ انچارج ایڈیشنل ایس پی پرشانت چوبے کو بنایا گیا ہے ، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایس آئی ٹی کے افسر دو دن گزر جانے کے باوجود متاثرہ شخص سے ملنے نہیں پہنچے ۔

دراصل 25 اکتوبر کو ومل پرکاش تارن کے ساتھ ودیشا کی مرکزی سڑک پر ایک شخص نے سرِعام مارپیٹ کی، جس کا ویڈیو بنا کر وائرل کیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی نہ کرتے ہوئے اسے محض امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کی دفعہ کے تحت ایس ڈی ایم کورٹ میں پیش کرکے جیل بھیج دیا۔ اس کارروائی سے ناراض 76 سالہ سینئر وکیل ومل پرکاش تارن نے مرکزی وزیرِ زراعت شیو راج سنگھ چوہان سے ملاقات کر کے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائے اور اس واقعے میں شامل سازش کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے ۔ ساتھ ہی انہوں نے 24 گھنٹے سیکورٹی فراہم کرنے کی بھی مانگ کی تھی، جس پر ریاستی حکومت نے انہیں سیکورٹی مہیا کرائی ہے ۔