نئی دہلی: مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے دعویٰ کیا ہے کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی 41 سے زیادہ سیٹوں پر جیت حاصل کرے گی، جب کہ مہا وکاس اگھاڑی دہائی کے اعدادوشمار تک بھی نہیں پہنچ پائے گی۔ فڈنویس نے کل دیر شام ایک نیوز چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیو سینا ( ٹھاکرے گروپ ) کے لیڈر ادھو ٹھاکرے کو دماغی بیماری ہے اور انہیں ایک ماہر نفسیات کی ضرورت ہے جبکہ سنجے راوت کوئی لیڈر نہیں ہیں۔ ادھو گروپ کی شیوسینا کو نشانہ بناتے ہوئے فڈنویس نے کہا کہ یہ ہندوتوا پارٹی نہیں ہے ۔ دراصل ادھو گروپ میں ان دنوں صرف اپنے آپ کو وفادار ظاہر کرنے کا مقابلہ ہے ۔ نائب وزیراعلی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ادھو ٹھاکرے جیسا جھوٹا انسان نہیں دیکھا۔ ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ کانگریس کے بارے میں فڈنویس نے کہا کہ کانگریس ان دنوں پاکستان کی زبان بول رہی ہے ۔ کانگریس کے لیڈر اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے ملک مخالف بیانات دینے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے حالات خراب ہیں اور پاکستان کٹورا لے کر گھوم رہا ہے۔ اپوزیشن کی زبان کے سلسلے میں فڈنویس نے کہا کہ ہم ایشوز پر الیکشن لڑ رہے ہیں، لیکن اپوزیشن گالی گلوچ کرکے الیکشن لڑ رہی ہے ۔ آئین میں تبدیلی کے اپوزیشن کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آئین کے محافظ ہیں اور پورا ملک مودی کے ساتھ ہے ۔ تقاریر میں مسلمانوں کے تذکرے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس ہی ہے جس نے ووٹ جہاد کے مسئلہ کو ہر گھر تک پہنچایا ہے ۔
مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کانگریس کے لیے انتخابی مسئلہ ہے ۔
اسی پروگرام میں مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو میرٹ پر ضمانت نہیں ملی ہے ، بلکہ انہیں صرف انتخابی مہم کے لیے راحت ملی ہے ۔ اب سپریم کورٹ کو اس حوالے سے اپنے فیصلے کا خود جائزہ لینا چاہیے ۔
ملک کی سیاست پر بات کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ اپوزیشن کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ وہ ملک کو توڑنے کی بات کرنے لگے تھے اور اب تو اپوزیشن رنگ کی بنیاد پر لوگوں کو بانٹنے کی بات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اجودھیا میں شری رام مندر ہمارے عقیدے کا معاملہ ہے ۔ اس میں کوئی نفع یا نقصان نہیں ہو سکتا۔ مسٹر گوئل نے کہا کہ ملک کے عوام اپوزیشن کو ان کی ہر بات کا جواب انتخابات میں اپنے ووٹوں کے ذریعہ دیں گے ۔