جموں و کشمیر تباہی اور بربادی کے دہانے پر ۔ جمہوریت بھی تہس نہس
سرینگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے چہارشنبہ کے روز کہاکہ بھارتیہ جنتاپارٹی نے جموں وکشمیر کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آنے والے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی اور اس کی اے ، بی اور سی ٹیم کو شکست سے دوچار کرکے یہاں کے عوام کو اپنی ناراضگی کا پیغام دینا ہوگا۔ان باتوں کا اظہار فاروق عبداللہ نے راجوری میں دو الگ الگ چناوی ریلیوں سے خطاب کے دوران کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کو برباد کرنے اورلوگوں کو پشت بہ دیوار کرنے کے لئے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ بھاجپا نے اس تاریخی ریاست کو تہس نہس کردیا اور یہاں پشتینی باشندوں کو محتاج بنانے میںکوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی ملک کے آئین، جمہوریت اور جمہوری اداروں کو بھی تہس نہس کرنے پر تُلی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ سماجی، سیکولر اخلاقیات اور جمہوری اصولوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جو آئین بنانے والوں نے وضع کئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا پراکسی کے ذریعہ جموں و کشمیر پر حکمرانی چلا رہی ہے ۔ مقامی افسران کو نظرانداز کر دیا گیا ہے جبکہ باہر کے نوکرشاہ اس شو کو چلا رہے ہیں جو جموں و کشمیر کے جغرافیہ اور عوام کو درپیش مشکلات سے بے خبر ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو بھی اس دور حکومت میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے ۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر مہاتما گاندھی اور نہرو کے ملک میں شامل ہوا جہاں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا گیا۔ بی جے پی تقسیم کرو اور حکومت کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیساتھ گئے گئے ہزاروں اور لاکھوں نوکریوں کے وعدہ سراب ثابت ہوئے ،ان کے تمام اعلانات جملے ہی نکلے ہیں۔