بی جے پی کو بھگانے کے سی آر نے بگل بجادیا

   


قومی سیاست میں نووارد بی آر ایس کیا رنگ لائے گی آنے والا وقت بتائے گا، حالات پر عوام کی نظر

نرمل۔/5 اکٹوبر، ( جلیل ازہر ) جو سوچا نہیں گیا وہ ہوگیا، تو جو سوچا نہیں جاسکتا ہے وہ اب ہوگا۔ سیاست کاتانا شاہی مزاج جب پروان چڑھتا ہے تو کوئی بچ نہیں سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی سیاسی حکمت عملی کب کونسا روپ دھارلے کوئی نہیں جانتا۔ آج انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سبق سکھانے کیلئے کمر کس لی اور ٹی آر ایس کو بی آر ایس بناتے ہوئے پارٹی کارکنوں سے لے کر اعلیٰ قیادت کے نام کے ساتھ بی آر ایس منسلک کردیا۔ ساری ریاست ہی نہیں ملک کا ہر عام آدمی مرکزی حکومت کی کارکردگی سے بہت زیادہ پریشان ہے۔ ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاست کی چوکھٹ پر اپنا پہلا قدم رکھ دیا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں BRS کیا رنگ لائے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن پارٹی کارکنوں میں بہت زیادہ جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آج ملک میں مرکزی حکومت اپنے اقتدار کے سرور میں من مانی فیصلے کرتے ہوئے انتقامی سیاست کے ذریعہ مخصوص سرمایہ داروں کو بہت زیادہ متوجہ کررہی ہے۔ ضروری اشیاء ہو کہ گیاس سلینڈر ہو یا پٹرول، ہر چیز پر من مانی قیمت بڑھاتے ہوئے چولہے سے آگ چھین لی گئی ۔ ریاستی حکومت ٹی آر ایس نے بہت بڑا فیصلہ لیا ہے لیکن ہر ریاست سے مرکزی حکومت کے تانا شاہی فیصلوں پر آواز اٹھنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت فائدہ و نقصان کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکمرانی کررہی ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ جو فائدہ و نقصان دیکھتے ہیں وہ تاجر ہوتے ہیں عوامی خدمت گذار نہیں۔ صرف امبانی اور اڈانی کے مقدر کو سنوارنے کی حکمرانی کا خمیازہ تو مرکزی حکومت کو بھگتنا پڑے گا۔ تاہم چند ر شیکھر راؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی سبق سکھانے کی مکمل تیاری کرچکے ہیں جو احتجاج اور حصول اقتدار کے لئے بہت بڑا سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ کس انداز سے مرکز کو سیاسی سبق پڑھائیں گے۔ ساتھ ہی قیادت یہ بات ذہن میں رکھ لے کہ ریاست اکیلے قائد کی طاقت پر نہیںچلتی بلکہ ان جوانوں کی ہمت اور ذہانت پر چلتی ہے جو اپنی ریاست کی خوشحالی کی خاطر اپنی جانیں خطرہ میں ڈالتے ہیں۔