بی جے پی کے دباؤ کو کم کرنے دوبارہ فیڈرل فرنٹ کا نعرہ

   


ممتا بنرجی کے موقف کی تائید، مجوزہ اجلاس میں ٹی آر ایس کی شرکت کا امکان
حیدرآباد۔گریٹر بلدی انتخابات کے بعد بی جے پی کی جانب سے حملوں میں شدت سے پریشان ٹی آر ایس حکومت نے پھر ایک بار ملک میں فیڈرل فرنٹ کے سلسلہ میں پیشرفت کا اشارہ دیا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی مانے جانے والے بی ونود کمار جو تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین ہیں کہا ہے کہ فیڈرل نظریہ کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کو چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کا تعاون حاصل ہے۔ ممتا بنرجی نے مرکز کی جانب سے بعض آئی پی ایس عہدیداروں کے تبادلے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزکا یہ فیصلہ ملک کے وفاقی ڈھانچہ اور وفاقی روح کے خلاف ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ اگر مرکز بی جے پی برسراقتدار ریاستوں میں بھی اس طرح کا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس فیڈرل اسپرٹ پر ایقان رکھتی ہے جس کے تحت مرکز کو ریاستوں کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیئے۔ ونود کمار نے کہا کہ قواعد کے مطابق عہدیدار اپنے طور پر سنٹرل سرویس کو اختیار کرسکتے ہیں۔ ممتا بنرجی کو این سی پی لیڈر شرد پوار، چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال، چیف منسٹر پنجاب امریندر سنگھ، چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ ، چیف منسٹر چھتیس گڑھ بھوپیش بھاگل اور ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن کی جانب سے تائید حاصل ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل فیڈرل فرنٹ کے قیام کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے سی آر نے کولکتہ پہنچ کر ممتا بنرجی سے ملاقات کی تھی۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے ایک اور سینئر لیڈر پی راجیشور ریڈی نے کہا کہ ممتابنرجی کولکتہ میں مجوزہ اجلاس کے سلسلہ میں ٹی آر ایس کو مدعو کرتی ہیں تو شرکت کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس وفاقی نظام کے استحکام میں یقین رکھتی ہے اور وہ ممتا بنرجی کی تائید کرے گی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے خلاف بی جے پی کی مہم میں اضافہ کے بعد پارٹی نے جوابی اقدام کے طور پر فیڈرل فرنٹ کا نظریہ دوبارہ عوام میں پیش کیا ہے۔