شادنگر بلدیہ انتخابات کیلئے 244نامزدگیاں داخل ‘ امیدواروں کی رائے دہندوں سے ملاقات کا آغاز
شادنگر 31 ؍ جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شادنگر بلدیہ میں جملہ 28 وارڈ موجود ہیں۔ ہر ایک وارڈ سے اوسطاً کسی وارڈ سے تین تین اور کسی وارڈ سے دو دو امیدواروں نے ایک ہی پارٹی سے پرچہ نامزدگیاں داخل کی گی ، جس کی وجہ سے دونوں بڑی جماعتوں (کانگریس اور بی آر ایس) کی اعلیٰ قیادت پریشان نظر آ رہی ہے کہ کس کو ٹکٹ دیا جائے اور کس کو نہیں۔ شادنگر میونسپل انتخابات کے لیے تین دن تک جاری رہنے والا نامزدگیوں کا عمل جمعہ کو مکمل ہوا۔ آخری دن 147 امیدواروں نے مجموعی طور پر 180 نامزدگیاں داخل کیں، جبکہ تین دن میں کل ملا کر 244 نامزدگیاں داخل ہوئیں۔ پرچہ نامزدگیوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو گیا ہے۔کانگریس سے 84، بی آر ایس (ٹی آر ایس) سے 86، بی جے پی سے 39، بی ایس پی سے 1، سی پی ایم سے 2، اے آئی ایم آئی ایم سے 4 نامزدگیاں داخل ہوئیں۔ آزاد امیدواروں کی 24 اور دیگر پارٹیوں کی 4 نامزدگیاں داخل ہوئی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی جانب سے ایک بھی نامزدگی داخل نہیں کی گئی۔ نامزدگیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد عہدیداروں نے کچھ سکون کی سانس لی، لیکن زیادہ تعداد میں امیدوار سامنے آنے کی وجہ سے کانگریس اور بی آر ایس کی قیادت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کن امیدواروں کو برقرار رکھا جائے اور کن کو ہٹایا جائے۔ ادھر سب سے زیادہ نامزدگیاں وارڈ نمبر 12 اور 15 میں ہوئیں، جہاں 13-13 امیدواروں نے نامزدگیاں داخل کیں۔ اسی طرح وارڈ نمبر 9 میں 12، جبکہ وارڈ نمبر 1، 6 اور 8 میں 11-11 امیدواروں نے نامزدگیاں داخل کیں۔ وارڈ نمبر 7 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں۔پرچہ نامزدگیوں کے موقع پر شادنگر بلدیہ آفس کے حدود میں ڈی سی پی شریمتی سریشا کی قیادت میں اے سی پی لکشمی نارائنہ نے پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جانچ کا مرحلہ مکمل ہونے اور پرچہ نامزدگی واپس لینے کے بعد انتخابی مقابلے میں کون کون موجود رہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کانگریس اور بی آر ایس میں بی فارم کو لے کر سخت جدوجہد جاری ہے۔ پرچہ داخل کرنے کے ساتھ ہی امیدوار اپنے اپنے وارڈوں میں دورہ کرتے ہوئے ووٹروں سے راست ملاقات کرنا شروع کر دیے ہیں ۔