بی ٹیم کا تنازعہ، مجلسی قائدین کی غیر واضح تردید سے الجھن برقرار

   

صرف الزامات کا تذکرہ اور اپوزیشن پر تنقید، بی آر ایس کی تائید کے طریقہ کار پر سوال
حیدرآباد۔/22 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی مہم میں ’’ بی ٹیم ‘‘ اہم انتخابی موضوع بن چکا ہے۔ ہر پارٹی دوسرے کو کسی اور کی ’ بی ٹیم‘ سے تعبیر کررہی ہے لیکن رائے دہندوں کو الجھن اس بات پر ہے کہ آخر حقیقی ’ بی ٹیم‘ کون ہے اور کون کس کیلئے کام کررہے ہیں۔ کانگریس نے بی آر ایس اور مجلس کو بی جے پی کی ’ بی ٹیم‘ قرار دیا ہے جبکہ بی جے پی نے کانگریس اور مجلس کو بی آر ایس کی بی ٹیم کا ٹائٹل دیا ہے۔ دونوں میں قدرے مشترک یہ ہے کہ مجلس کو دونوں جانب سے ’ بی ٹیم‘ کا ٹائٹل حاصل ہوا ہے۔ انتخابات چاہے وہ تلنگانہ کے ہوں یا پھر کسی اور ریاست کے وہاں مجلس کا رول بی جے پی کی بی ٹیم کے الزامات کو تقویت پہنچاتا ہے۔ کانگریس قائد راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، صدر کانگریس ملکارجن کھرگے اور صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی انتخابی تقاریر میں بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کو متحدہ طور پر کانگریس کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس انداز میں مجلس نے بی آر ایس کی تائید کا اعلان کیا ہے اس سے بی ٹیم کے الزامات کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کیونکہ ریاستی بی جے پی یونٹ نے اچانک اپنی سرگرمیوں کو سُست کردیا ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا الیکشن کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی میں مبینہ طور پر معاہدہ کی اطلاعات کے دوران مجلس بھی سیاسی پارٹیوں کے نشانہ پر ہے۔ عوام کا بنیادی سوال یہ ہے کہ مجلسی قائدین ہر جلسہ میں اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ انہیں بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا جارہا ہے۔ اس الزام کے جواب میں وضاحت کے بغیر صرف شکایت کو بار بار دہرانے سے عوام مطمئن نہیں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی ٹیم سے متعلق وضاحت میں اس قدر احتیاط کیوں ہے۔ مجلسی قیادت یہ وضاحت نہیں کررہی ہے کہ وہ کسی کی بی ٹیم نہیں ہے۔ رائے دہندوں میں اس بات کو لے کر بحث جاری ہے کہ انتخابی مہم میں کون کس کی مدد کررہا ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی میں اے ٹیم کون ہے اور ان دونوں کی بی ٹیم کے طور پر کسے منتخب کیا گیا۔ کسی بھی گوشہ سے یہ نہیں کہا گیا کہ مجلس کی کوئی اور پارٹی بی ٹیم ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مقامی جماعت کو ابھی تک اے ٹیم کا درجہ حاصل نہیں ہوا۔ کانگریس پارٹی کا الزام ہے کہ جہاں کہیں وہ بی جے پی کے خلاف مقابلہ کرتی ہے وہاں مجلس کے امیدوار کھڑے کرکے سیکولر ووٹ تقسیم کرتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں یو پی، بہار، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کا الزام ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت کا اسٹیرنگ مجلس کے ہاتھ میں ہے اور تلنگانہ میں مسلمانوں کی دلجوئی کی پالیسی کے ذریعہ ووٹ حاصل کئے جارہے ہیں۔ امیت شاہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ بی جے پی برسراقتدار آنے پر تلنگانہ میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا اور مسلم تحفظات ختم کرتے ہوئے ایس سی، ایس ٹی طبقات میں تقسیم کئے جائیں گے۔ مجلس کی قیادت کی جانب سے بی ٹیم سے متعلق غیر واضح موقف اور تردید سے گریز سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہے۔