صوبہ آسام کے ترانگ ضلع میں دھال پوربستی میں کل آٹھ سوگھروں کو پولس وانتظامیہ کے ذریعہ مسمارکئے جانے کے خلاف اپنی جمہوری حق کے مطابق پرامن احتجاج کررہے بے بس اور نہتے لوگوں کے خلاف ہونے والی پولس کارروائی کو انتہائی وحشیانہ قراردیتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ یہ ظلم ایساہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم وبربریت کا جو ننگاناچ وہاں ہوا ہے اس کے کئی ویڈیوسوشل میڈیا پر دیکھے جاسکتے ہیں یہ ظلم ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے، افسوس اپنے ہی ملک میں اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعہ کچلنے کے لئے غیر قانونی اورتشددکا ایسا وحشیانہ طریقہ اختیارکرنا جسے دیکھ کر انسانیت شرمندہ ہوجائے،کسی بھی مہذہب سماج کے لئے قابل قبول نہیں ہے، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ انسانی حقوق کے سنگین پامالی کا معاملہ ہے،اس لئے کہ اگر وہ لوگ سرکاری زمین پر آبادتھے تو قانونی طورپر پہلے نوٹس جاری کیا جانا چاہئے تھا،انہوں نے کہا کہحکومت سے ہمارامطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی جوڈیشنل انکوائری کرائی جائے، اجاڑے گئے خاندانوں کی بازآبادکاری کا بندوبست کیا جائے