بینک کھاتوں میں کروڑہا روپئے سود ، فساد متاثرین کی باز آبادکاری کا نایاب موقع
حیدرآباد۔3جنوری(سیاست نیوز) مسلمانوں میں عام تاثر یہ ہے کہ بینک میں جمع رقومات پر حاصل ہونے والے سود کو حاصل نہیں کرتے اور کئی کھاتہ داروں کی جانب سے اس رقم کو ہاتھ بھی نہیں لگایاجاتابلکہ بینک کھاتوں میں جمع رقومات پر حاصل ہونے والے سود کو اصل رقم سے علحدہ ہی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ہندستانی مسلمانوں کیلئے اب بینکوں کے سود کے ذریعہ حاصل ہونے والی رقم دوسروں کے کام آسکتی ہے اور اس رقم کو بینک سے نکال کر فساد سے متاثرہ اور شہریت ترمیم قانون کے علاوہ این پی آر اور این آر سی کے احتجاج کے دوران اترپردیش ودہلی میں پولیس کی جانب سے گرفتار کئے گئے مسلم نوجوانوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔بینکوں میں چھوڑ دیا جانے والا آپ کا سود بینکوں کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے اور کس زمرہ میں استعمال ہوتا ہے اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں ہوتا لیکن اگر اس سود کو ہم ہی منہاء کرتے ہوئے قانونی جدوجہد کیلئے استعمال کرنے لگ جائیں تو بینک میں جمع رقومات بھی منہاء ہونی شروع ہوجائیں گی اور سود کی جو رقومات ہیں ان رقومات کی منہائی کے ذریعہ قانونی مدد جیسے وکلاء کی فیس کی ادائیگی یا ضمانت کی رقومات کی ادائیگی کے لئے قانونی رسہ کشی کا شکار افراد کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اترپردیش کے علاوہ دہلی اور آسام میں پولیس کی جانب سے اب تک سینکڑوں نوجوانوں کو حراست میں لیتے ہوئے انہیں جیلوں میں منتقل کیا جاچکا ہے لیکن دہلی میں ریاستی وقف بورڈ نے ان گرفتار شدگان کی قانونی مدد کا اعلان کردیا ہے اسی طرح اتر پردیش میں گرفتار کئے گئے احتجاجیوں کے مقدمات کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ مکمل قانونی مدد فراہم کرے گی لیکن اس کے باوجود بھی گرفتار شدگان کو ضمانت کی رقومات کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے اسی لئے ہندستانی مسلمانوں اور این آر آئی جو اپنے بینکوں میں موجود رقومات پر سود حاصل نہیں کرتے ہیں وہ ان سود کی رقومات کو یکجا کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کی ہراسانی کا شکار مسلم نوجوانوں کے علاوہ خاندانو ںکی مدد کرسکتے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہندستان میں موجود مسلمانو ںکی بڑی تعداد ایسی ہے جو بینک میں موجود رقومات پر حاصل ہونے والے سود کا حساب علحدہ رکھتے ہوئے اس کی منہائی سے اجتناب کرتے ہیں اور بینک میں رقم رکھنے کا ان کا مقصد صرف دولت کو محفوظ کرنا ہوتا ہے ۔ اگر ان مسلم کھاتہ دارو ںکی جانب سے سود کی رقومات منہاء کرتے ہوئے اتر پردیش کے عوام کی مدد شروع کی جائے تو کروڑہا روپئے کے فنڈس جمع ہوسکتے ہیں۔شہر حیدرآباد میں موجودبینک کھاتوں میں بھی کئی ہزار ایسے کھاتے ہیں جن سے سود کی رقومات منہاء نہیں کی جاتی بلکہ اسے اصل جمع رقم سے علحدہ ہی رکھا جاتا ہے۔