بے نامی جائیدادوں کے بعد اب بے نامی گاڑیوں پر توجہ

   

محکمہ انکم ٹیکس حرکت میںآگیا ۔ ایک گاڑی کی خریدی اور منتقلی پر امتناع بھی عائد
حیدرآباد۔11۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) بے نامی جائیدادوں کے بعد اب محکمہ انکم ٹیکس کی نظریں بے نامی گاڑیوں پر مرکوز ہوچکی ہیں اور گذشتہ یوم محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے شہر حیدرآباد میں خریدی گئی مرسڈیز بینز G350 کی خرید ی اور منتقلی پر امتناع عائد کرنے کے احکام جاری کرتے ہوئے اس گاڑی کو بے نامی قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گاڑی شہر حیدرآباد کے ایک سرکردہ رئیل اسٹیٹ تاجر کی بے نامی ہے جو کہ کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق اس گاڑی کو انسداد بے نامی جائیداد منتقلی ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت قرق کرنے کے احکام جاری کئے گئے ہیں اور محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس کی منتقلی اور فروخت پر روک لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس گاڑی کی قیمت کے متعلق انکم ٹیکس عہدیدارو ںکا کہناہے کہ یہ گاڑی 1کروڑ 27 لاکھ روپئے مالیت کی ہے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس عہدیداروں کی جانب سے نہ صرف اس گاڑی بلکہ اس گاڑی کے مبینہ مالک کے پاس موجود کروڑہا روپئے مالیت کی گاڑیوں کی ملکیت کے متعلق بھی تفصیلات حاصل کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔انکم ٹیکس عہدیداروں نے اس مرسڈیز بینز کی تمام تفصیلات اور اس کے بے نامی مالک اور حقیقی مالک کے متعلق آگہی حاصل کرنے کے علاوہ اس گاڑی پر ہونے والے چالانات کے متعلق بھی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کو روانہ کی ہیں جن میں کہا گیا کہ پپل گوڑہ میں چالان کئے گئے ہیں اس کے علاوہ گاڑی میں سیاہ شیشے استعمال کرنے کے دو چالان موجود ہیں۔اس گاڑی کی قرقی کے احکامات کے بعد کہا جا رہاہے کہ گاڑی مالک کے پاس موجود گاڑیوں کی ملکیت اور خریدی کے متعلق بھی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔م