تاج محل میں بند 22 کمروںکو کھولنے کی درخواست مسترد

,

   

الہٰ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے درخو است گذار کی شدید سرزنش
’تاج محل پر پہلے تحقیق کرو، یونیورسٹی جاؤ، پی ایچ ڈی کرو، پھر عدالت آنا‘

نئی دہلی :دنیا کے 7 عجوبوں میں شامل تاج محل کے بند کمروں کو کھولنے کی عرضی پر آج الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے درخواست گذارکو زوردار پھٹکار لگائی اور درخواست گذارکی زبردست سرزنش کی۔ عدالت نے درخواست داخل کرنے والے ایودھیا بی جے پی لیڈر سے واضح لفظوں میں کہا کہ پی آئی ایل کا مذاق نہ بنائیں۔ عدالت نے ساتھ ہی درخواست گذار سے کہا کہ ’’تاج محل کے بارے میں پہلے تحقیق کرو اس کے بعد ہی عرضی ڈالو۔ پہلے پڑھ لیں کہ تاج محل کب اور کس نے بنوایا۔‘‘جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گذار کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ ’’پی آئی ایل نظام کا غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کا مذاق بنانا ٹھیک نہیں۔ تاج محل کس نے بنوایا، اس تعلق سے پہلے تحقیق کرو، یونیورسٹی جاؤ، پی ایچ ڈی کرو تب عدالت آنا۔ تحقیق سے کوئی روکے تب ہمارے پاس آنا۔ اب تاریخ کو آپ کے مطابق نہیں پڑھایا جائے گا۔‘‘واضح رہے کہ بی جے پی کے ایودھیا میڈیا انچارج ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے عدالت میں عرضی داخل کر کے مطالبہ کیا ہے کہ تاج محل کے 22 کمروں کو کھولا جائے۔ درخواست میں کمروں میں بند راز کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اسے کھولنے کی گزارش کی گئی ہے۔ عرضی دہندہ رجنیش نے کہا کہ ہندو مذہبی پیشوا اور ہندو تنظیم جہاں تاج محل کو بھگوان شیو کا مندر بتاتے ہیں، وہیں مسلم اسے عبادت گاہ بتا رہے ہیں۔ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ہی میں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے تاج محل میں بند 22 کمروں کو کھولنے اور اس کی ویڈیوگرافی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔