بانی شہر قلی قطب شاہ کی دُعا، آبادی میں اضافہ اور شہر کی وسعت کی گواہی
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) بانی شہر قلی قطب شاہ نے شہر حیدرآباد کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد رب کائینات کے حضور ایک دعاء کی تھی جو کہ کافی مشہور ہے ’’ میرے شہرلوگاں سو معمور کر‘ رکھیا جوں تو دریا میںمن یا سمیع‘‘اس دعاء کی قبولیت کی شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہر کی وسعت گواہی دیتا ہے لیکن اب شہر حیدرآباد میں آبادی کے برابر گاڑیوں کی تعداد ہونے لگی ہے۔شہر حیدرآباد آبادی کے اعتبار سے ملک کا پانچواں بڑا شہر بن چکا ہے اور شہر حیدرآباد میں آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور اب شہر حیدرآباد میں ٹو وہیلر گاڑیوں کی آبادی اور شہریوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے کیونکہ جاریہ ماہ کے دوران محکمہ آرٹی اے کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق شہر حیدرآباد میں جملہ ٹووہیلرس کی تعداد 65 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور شہر حیدرآباد میں رجسٹرڈ کئے گئے موٹروہیکل کی تعداد 65 لاکھ 51ہزار 563 تک پہنچ چکی ہے جبکہ شہر میں جملہ رجسٹرڈ کاریں 16لاکھ37ہزار 531 تک پہنچ چکی ہیں۔اس طرح اگر شہر حیدرآباد میں رجسٹرڈ کی گئی گاڑیوں کی مجموعی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد شہر میں بسنے والے انسانوں کی تعداد سے تجاوز کرچکی ہے کیونکہ یہ تعداد 88لاکھ97ہزار109 تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبا دوسکندرآباد میں استعمال کی جانے والی 88 لاکھ ان گاڑیوں کے علاوہ اگر شہر کے نواحی و مضافاتی علاقوں اور اضلاع سے شہر حیدرآباد پہنچنے والی گاڑیوں کا بھی شمار کرلیا جائے تو مجموعی اعتبار سے یہ تعداد 1کروڑ سے تجاوز کرجاتی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں موٹر کاروں اور موٹر سیکلوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں ماہرین کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں ہر گھر میں اب جتنے افراد ہیں اتنی ٹووہیلرس ہونے لگی ہیں اور بڑی تعداد میں خواتین بھی ٹووہیلر کا استعمال کررہی ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ بینکوں کی جانب سے بہ آسانی ٹووہیلرس کے لئے فراہم کئے جانے والے قرض کے نتیجہ میں بھی موٹر سیکلوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ دونوں شہروں میں اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کے اضافہ کے باوجود آرٹی سی کے ذریعہ یومیہ 30لاکھ افراد سفر کرتے ہیں اور حیدرآباد میٹرو ریل کے مسافرین کی تعداد یومیہ 5لاکھ تک پہنچ چکی ہے اسی طرح ایم ایم ٹی ایس کا استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی 60 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور اس کے علاوہ کیاب اور آٹو کی خدمات سے استفادہ کرنے والوں کی بھی قابل لحاظ تعداد موجود ہے۔3